خبریں

مرکزی وزیر انوپریا پٹیل کا یوگی حکومت پر ’پسماندہ ذات کو آپس میں لڑانے‘ کا الزام

مودی کابینہ میں وزیر انوپریا پٹیل نے یوگی حکومت کے ذریعہ تشکیل سماجی انصاف کمیٹی کی رپورٹ پر سوال اٹھاتے ہوئے حکومت سے ذات کی بنیاد پر مردم شماری کرانے کا مطالبہ کیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

این ڈی اے سے اپنا دَل کی ناراضگی لگاتار بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ اپنا دل کی سینئر لیڈر اور مرکزی وزیر انوپریا پٹیل کا کہنا ہے کہ ‘‘جس کی جتنی کثیر تعداد، اس کی اتنی شراکت داری کی بنیاد پر ریزرویشن ملنا چاہیے۔ یو پی حکومت ایک کا حصہ مار کر دوسرے کو نہیں دے سکتی۔ یو پی حکومت ذات کی بنیاد پر مردم شماری کرا کر تعداد کی بنیاد پر ریزرویشن دے۔‘‘ ساتھ ہی انوپریا پٹیل نے یہ بھی کہا کہ ’’حکومت ذات کی بنیاد پر مردم شماری نہ کرا کر پسماندہ ذات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو آپس میں لڑانا چاہتی ہے۔‘‘

انوپریا پٹیل نے حالانکہ مرکزی حکومت سے اپنی کسی بھی ناراضگی سے انکار کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہمارا مرکزی حکومت کے ساتھ کوئی نااتفاقی نہیں ہے اور نہ ہی دل میں کوئی رنجش ہے۔ ہم آگے بھی مرکزی حکومت کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ لیکن ہمارے مسائل کا حل نکالنا ہوگا۔ ہم اپنے کارکنان کے وقار کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔‘‘

انوپریا پٹیل اور آشیش پٹیل نے این ڈی اے سے خراب ہو رہے رشتوں کے تعلق سے میڈیا کو بتایا کہ ہم این ڈی اے کے ساتھ ہیں اور رہیں گے لیکن اگر یو پی بی جے پی کے کارکنان نے اپنا رویہ نہیں بدلا تو ہمیں کچھ نہ کچھ فیصلہ لینا ہوگا۔ دونوں نے سماجی انصاف کمیٹی کی رپورٹ کو بے بنیاد بتایا اور کہا کہ پسماندہ ذاتوں کو ان کی آبادی کے تناسب میں ریزرویشن دیا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی حکومت میں ساتھی پارٹیوں کے کارکنان، لیڈروں اور وزراء کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جو مناسب نہیں۔ ان کے مطالبات کو حکومت نہیں سن رہی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ساتھی پارٹیوں کو نظر انداز کر کے 2019 کا لوک سبھا انتخاب جیتنا مشکل ہو سکتا ہے۔‘‘

Published: 8 Jan 2019, 10:09 AM