ہندوستان: کورونا پر تازہ رپورٹ تشویشناک، مارچ 2021 تک 6 کروڑ لوگ ہو سکتے ہیں پازیٹو

آئی آئی ایس سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں کورونا کو لے کر اگر حالات زیادہ بگڑتے ہیں اور بدتر ماحول بنا تو مارچ 2021 تک کورونا مریضوں کی تعداد بڑھ کر 6.18 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ہندوستان میں کورونا وائرس ہر دن ایک نیا ریکارڈ قائم کر رہا ہے۔ جتنی تیزی سے کورونا کے معاملے بڑھ رہے ہیں وہ بے حد فکر انگیز اور تشویشناک ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ آنے والے کچھ مہینوں میں ملک میں کیسے حالات ہوں گے؟ متاثرین کی تعداد کتنی ہو سکتی ہے؟ اس سلسلے میں آئی آئی ایس سی (انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس) نے ایک اندازہ لگایا ہے جس سے لوگوں کی دہشت بڑھ سکتی ہے۔

آئی آئی ایس سی کے مطابق اگر ملک میں حالات زیادہ نہیں بگڑے تو سب سے بہتر حالت میں مارچ 2021 تک کورونا مریضوں کی کل تعداد 37.4 لاکھ تک پہنچ جائے گی اور اگر حالات زیادہ بگڑ گئے تو 6.18 کروڑ لوگ کورونا کی زد میں آ سکتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ آئی آئی ایس سی ماڈل انفیکشن امراض کے ریاضی ماڈلنگ میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ اس نے تازہ اعداد و شمار ملک کے کورونا ڈاٹا اور اس سال 23 مارچ سے 18 جون کے درمیان سامنے آئے کورونا انفیکشن والے مریضوں کی بنیاد پر پیش کیا ہے۔ لیکن فی الحال جو ملک میں کورونا کو لے کر حالات ہیں، اگر اس کے حساب سے دیکھا جائے تو اندازہ الگ ہونے کا مکان ہے۔

آئی آئی ایس سی کے مطابق مارچ 2021 کے آخر تک ہندوستان میں کورونا وائرس کے معاملے عروج پر پہنچنے کا امکان نہیں ہے بلکہ ہندوستان میں کورونا وائرس ستمبر کے دوسرے ہفتے یا اکتوبر کے مہینے تک عروج پر پہنچ سکتا ہے۔ آئی آئی ایس سی نے اپنے اندازہ میں کہا ہے کہ اگر بڑھتے کورونا معاملوں پر قابو پانا ہے تو ہر ہفتے ایک یا پھر دو دن تک لاک ڈاؤن پر زور دیا جانا چاہیے۔ تحقیق کے مطابق اگر ہر ہفتے ایک یا دو دن کا لاک ڈاؤن اور لوگوں کے ذریعہ سوشل ڈسٹنسنگ پر عمل کیا گیا تو انفیکشن میں کافی حد تک کمی آ سکتی ہے۔

Published: 16 Jul 2020, 5:11 PM
next