دارالعلوم دیوبند کی عمارت پر جلد لہرائے گا قومی پرچم، سرگرمیاں تیز!

سہارنپور کے کمشنر نے بتایا کے دیوبند ہائی وے پر تقریباً 4 کلو میٹر لمبا فلائی اوورموجود ہے۔ انتظامیہ چاہتی ہے کہ فلائی اوور سے گذرنے والے افراد دیوبند میں اونچائی پر لہراتے ترنگے جھنڈے کا نظارہ دیکھیں

تصویر ایم. افسر
تصویر ایم. افسر
user

عارف عثمانی

دیوبند: ہندوستا ن میں اسلامی مذہبی تعلیم کے مشہور ومعروف ادارہ دارالعلوم دیوبند کی عمارت پر بہت جلد قومی پرچم لہراتا ہوا نظر آسکتا ہے۔ ضلع انتظامیہ اس سلسلہ میں دارالعلوم کے ذمہ داران سے بات چیت کررہی ہے اور اگرادارے کے ذمہ داران انتظامیہ کے مشورے پر عمل کرنے کو منظوری دے دی تو دارالعلو م کی عمارت پر لہراتا ہوا قومی پرچم دیوبند کی شان میں چار چاند لگادے گا۔

ضلع سہارنپور کے کمشنر سنجے کمار نے ایک گفتگو کے دوران بتایا کے دیوبند ہائی وے پر تقریباً 4 کلو میٹر لمبا فلائی اوورموجود ہے، انتظامیہ چاہتی ہے ، فلائی اوور سے گذرنے والے ہزاروں افراد دیوبند کے کسی خاص مقام اور اونچائی پر لہراتے ہوئے ترنگے جھنڈے کا نظارہ دیکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈی ایم آلوک پانڈے دارالعلوم کے ذمہ داران سے اس سلسلہ میں بات چیت کررہے ہیں، جہاں کچھ عرصہ قبل ایک شاندار اور ملٹی اسٹوری لائبریری کی بلڈنگ تعمیر کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ترنگتا جھنڈا اس بلڈنگ کے بالائی حصہ پر لگادیا جائے تو دیوبند کی شہرت اور حیثیت دونوں میں اضافہ ہوگا۔

ڈی ایم کا کہنا ہے کہ انتظامیہ یہ چاہتی ہے کہ دیوبند میں 24 گھنٹے قومی پرچم لہراتا ہوا نظر آئے اس لئے اس کام کو بہت جلد کرلینا چاہئے۔ امید ہے کہ اس سلسلہ میں دارالعلوم انتظامیہ بھرپور تعاون کرے گی۔ افسران کے مطابق ایسا کرنے سے دارالعلوم کی شان و شوکت اور شہرت میں بھی چار چاند لگ جائے گا۔ ڈی ایم کا کہنا ہے کہ دیوبند جیسے حساس علاقے میں بہت جلد کوتوالی کی نئی بلڈنگ تیار کرائی جائے گی، اس کے علاوہ ریلوے روڑ پر صنعتی محکمہ کی بے کار پڑی ہوئی آراضی پر تحصیل بلڈنگ تعمیر کی جائے گی۔میٹنگ کے دوران اس بات کا فیصلہ کیا جائے گاکہ تحصیل اور کوتوالی کی عمارتیں تنگ گلیوں سے باہر کھلی جگہ پر تعمیر کی جائیں۔

اس سے قبل بھی اس طرح کی کوششیں کی جاچکی ہیں،انہوں نے بتایا کہ دیوبند کے ایس ڈی ایم راکیش کمار کو مناسب جگہ تلاش کرنے اور نئی تعمیرات کی منصوبہ سازی کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اگر اس کے لئے آراضی کو خریدنا بھی پڑا تو بھی مذکورہ عمارتوں کی تعمیر کروائی جائے گی۔ اسی طرح دیوبند میں روڈویز ڈِپو کی بھی عرصہ دراز سے ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ اسی غرض سے روڈویز کے کمشنر سطح کے منیجر منوج پنڈیر کو بلاکر اس سلسلہ میں جدوجہد تیز کرنے کے لئے ہدایات دی گئی ہیں، کیونکہ موجودہ بس اسٹینڈ نگر پالیکا کی جگہ پر واقع ہے جس کا ماہانہ کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ اس جگہ کو بھی لیز پر لیا جاسکتا ہے۔

اس کے علاوہ ڈی ایم نے بتایا کہ سہارنپور مظفرنگر اضلاع کے 127 کلو میٹر علاقہ میں ہوکربہنے والی ہنڈن ندی پر کئے جانے والے تجاوزات کو ایک فروری سے مہم چلاکر ہٹایا جائے گا اور سب سے پہلے یہاں شجر کاری کی جائے گی۔ ڈی ایم کا کہنا ہے کہ تجاوزات کو ہٹائے جانے کی مہم میں تحصیل، سینچائی محکمہ ، جنگلات کا محکمہ اور پولیس محکمہ شامل رہے گا۔ اس مہم کو آئندہ 31 مئی تک مکمل کرلیا جائے گا۔ بعد ازاں برسات سے قبل اس پورے علاقے میں شجر کاری کی مہم چلاکر ہرابھرا بنایا جائے گا۔ کمشنر نے بتایا کہ اسمارٹ سٹی کے تحت کمپنی باغ میں بھی واقع پارک کو مزید وسعت دی جائے گی، جس پر تقریباً 8 کروڑ 50 لاکھ روپئے کے اخراجات آئیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس پارک میں ہر روز تقریباً 6 ہزار لوگ گھومنے کے لئے آتے ہیں۔ 121 ایکڑ زمین میں پھیلے اس پارک میں جدید قسم کے ٹوائلیٹ لائبریری اور باغ بانی کے لئے ایک بڑے ہال کی تعمیر بھی کی جائے گی، جس میں کم از کم 200 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہوگی۔