کیا چیف جسٹس گوگوئی کی سبکدوشی سے قبل بابری مسجد پر فیصلہ ہو پائے گا؟

سماعت میں تیزی کے بعد اس قدیمی تنازعہ کے حل کی ایک امید تو ضرور نظر آ رہی ہے لیکن لوگوں کے دلوں میں یہ سوال بھی ہے کہ کیا 17 نومبر کو گوگوئی کی سبکدوشی سے پہلے اس پر کوئی حتمی فیصلہ سنایا جا سکے گا!

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی والی سپریم کورٹ کی 5 رکنی آئینی بنچ کی طرف سے ایودھیا کے بابری مسجد معاملہ کی سماعت روزانہ ہو رہی ہے۔ سماعت میں تیزی کے بعد سات عشروں قدیمی تنازعہ کے حل کی ایک امید تو ضرورت نظر آ رہی ہے لیکن لوگوں کے دلوں میں یہ سوال بھی ہے کہ آیا 17 نومبر کو گوگوئی کی سبکدوشی سے پہلے اس پر کوئی حتمی فیصلہ سنایا جا سکے گا یا نہیں!

واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ کی طرف سے مقرر شدہ مفاہمتی پینل کے ذریعے ہندووں اور مسلمانوں کے مختلف فریقین کے درمیان اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ اس کے بعد جسٹس رنجن گوگوئی نے اس معالہ میں ہفتہ کے تمام کام کے دنوں میں سماعت کرنے کا فیصلہ لیا۔

یاد رہے، الہ آباد ہائی کورٹ کی طرف سے 2010 میں ایودھیا میں 2.77 ایکڑ زمین کو تین فریقین سنی وقف بورڈ، نرموہی اکھاڑا اور رام للا کے درمیان یکساں طور پر تقسیم کرنے سے متعلق فیصلہ سنانے کے بعد یہ معاملہ سپریم کورٹ پہنچا تھا۔ ایودھیا معاملہ میں رام جن بھومی کو شریک عرضی گزار کے طور پر شامل کیا گیا ہے اور یہ دعوی کیا گیا ہے کہ متنازعہ مقام کی 2.77 ایکڑ اراضی اسی کی ہے، جہاں بابری مسجد کو منہدم کیا گیا تھا۔

معاملہ سے وابستہ ایک وکیل نے کہا، ’’جب سے چیف جسٹس نے اس معاملہ کو اپنے ہاتھوں میں لیا ہے، جب سے ان کے ریٹائر ہونے سے پہلے اس پر فیصلہ آنے کی امید نہیں ہے۔ اگر وہ اپنی مدت کار کے دوران فیصلہ نہیں لے پاتے تو پھر معاملہ کو کسی دوسری بنچ کی طرف سے نئے سرے سے سنا جانا چاہئے، ایسا عموماً نہیں ہوتا۔ ‘‘

بنچ پہلی ہی 6 دنوں کی سماعت مکمل کر چکی ہے اور اب تک نرموہی اکھاڑا نے اپنی دلائل کو پورا کر لیا ہے۔ اب رام للا براجمان کے وکیل کے موقف کو سنا جا رہا ہے۔

ایودھیا معاملہ پر سماعت کے چھٹے روز رام للا براج مان کے وکیل نے دعوی کیا کہ اس بات کو ثابت کرنے کے لئے پختہ ثبوت موجود ہیں کہ مسجد کو پہلے سے قائم مندر کے کھنڈر پر بنایا گیا تھا۔ لہذا شرعیہ بھی اس تعمیر کو مسجد کے طور پر قبول نہیں کر سکتی۔

جمعیۃ علما ہند کے پریس بیان کے مطابق جمعہ کے روز سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس بوبڑے نے رام للا کے وکیل ایڈوکیٹ ودیاناتھن سے سوال کیا کہ آپ کے بحث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مسجد پہلے سے تعمیر شدہ عمارت پر بنائی گئی تھی لیکن کیا وہ مذہبی عمارت (مندر)تھی ؟انہوں نے عدالت کو بتایا کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ میں جسٹس ایس یو خان نے لکھا ہے کہ مسجد کی تعمیر پہلے سے تعمیر شدہ عمارت کے حصوں کو استعمال میں لیتے ہوئے بنائی گئی تھی لہذا اسے غیر شرعی مسجد نہیں کہا جاسکتا ۔

جسٹس چندرچوڑنے کہا کہ اس تمام چیزیوں سے صرف یہ ثابت ہوتاہے کہ الگ الگ دو میں الگ الگ کلچرکے لوگ بسے ہوئے تھے اس لئے مختلف کلچر کی چیزیں مل رہی ہیں ۔اس سے وہاں پر کسی مندرکا ہونا آپ کوثابت کرنا ہوگا،چیف جسٹس نے رام للاکے وکیل سی ایس ودیاناتھن سے پوچھا کہ اب آپ اور کیا دلیل پیش کریں گے اس پر رام للا کے وکیل نے کورٹ کوبتایا کہ اب ہم گواہی کو پیش کریں گے اورپیرکو تین سے چارگھنٹے کے اندراپنی بحث مکمل کرسکتے ہیں ۔ واضح رہے کہ جمعہ کے روز بھی رام للا کے وکیل کی بحث نا مکمل رہی جس کے بعد عدالت نے اپنی کارروائی پیر تک کے لئے ملتوی کردی۔

Published: 17 Aug 2019, 7:10 PM