ایگزٹ پول: کیا مودی بی جے پی کی شکست کی وجہ ہوں گے؟

اسمبلی انتخابات کا عمل پورا ہو نے کے بعد کئی چینلوں نے ایگزٹ پول کے ذریعہ عوام کا ذہن جاننے کی کوشش کی اور اس سے ملنے والے رجحان سے ظاہر ہو رہا ہے کہ موجودہ ریاستی حکومتوں کا ایگزٹ ہو سکتا ہے۔

By قومی آوازبیورو

پانچ ریاستوں میں اسمبلی کے لئے ہونے والی ووٹنگ کا عمل پورا ہونے کے بعد کئی ٹی وی چینلوں کے ذریعہ نشر کئے گئے ایگزٹ پول سے ایسے اشارے ملے ہیں کہ بی جے پی کی اقتدار والی ریاستوں میں بی جے پی کا اقتدار سے ایگزٹ ہونا طے م ہے ۔ ادھر تلنگانہ اور میزورم میں کانٹے کی ٹکر کے اشارے ہیں لیکن بی جے پی وہاں پر ندارد ہے ۔ الگ الگ چینلوں کے ایگزٹ پول الگ الگ اشارے ضرور دے رہے ہیں لیکن بی جے پی کے خلاف واضح ناراضگی کے رجحان نظر آ رہے ہیں ۔

ایگزٹ پول سے ملنے والے رجحانات سے ایک بات واضح ہے کہ وزیر اعظم مودی کے خلاف ملک گیر پیمانہ پر ناراضگی نظر آ رہی ہے ۔ جن ریاستوں میں بی جے پی اقتدار میں نہیں ہے وہاں بھی مودی کے نام پر لوگ ووٹ دیتے نظر نہیں آ رہے۔ بی جے پی کی جانب سے اس بات کی تشہیر کی جا رہی تھی کہ عوام میں جو بھی ناراضگی ہے وہ ریاستی قیادت اور حکومت سے ہے لیکن عوام وزیر اعظم نریند رمودی کو چاہتے ہیں اور بی جے پی جتنا بھی اچھا کرے گی اس کی وجہ وزیر اعظم نریندر مودی کی شبیہ ہوگی۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بی جے پی اور سنگھ مودی حکومت کے غلط فیصلوں اور ان کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے میں کاافی حد تک کامیاب بھی رہے لیکن عوام میں نوٹ بندی، جی ایس ٹی ، ملک کی اقتصادی حالت، نوجوانوں میں بڑھتی بے روزگاری، کسانوں کے مسائل کو نظر انداز کرنا اور مستقل کانگریس کو برا کہنے سے بہت ناراضگی تھی ۔ ایک طبقہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر بی جے پی کی قیادت والی ریاستوں میں بی جے پی کو شکست ہوتی ہے تو اس کے لئے ریاستی حکومت سے ناراضگی سے بڑی وجہ مرکز ی حکومت سے ناراضگی ہوگی کیونکہ عوام کووزیر اعظم مودی سے کافی امیدیں تھیں اور گزشتہ ساڑھے چار سالوں میں نریندر مودی عوام کی امیدوں پر کھرے نہیں اترے ہیں۔ عوام کے اس رجحان سے صاف ظاہر ہے کہ مودی بی جے پی کی شکست کی بڑی وجہ ہو سکتے ہیں۔

ان اسمبلی انتخابات کو اگر عام انتخابات کے فائنل سے پہلے کا سیمی فائنل کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا اور سیمی فائنل کے لئے آئے ایگزٹ پول کے رجحانات سے صاف ہے کہ ملک کے عوام نہیں چاہتے کہ فائنل میں مودی جیتیں۔ ان رجحانات نے نے واضح کر دیا ہے کہ عوام تبدیلی کے حق میں ہیں ۔ اگر نتائج میں ایگزٹ پول کے رجحا نات کے خلاف تصویر سامنے آتی ہے تو حزب اختلاف کو ایک مرتبہ پھر اپنی حکمت عملی اور اپنی ترجیحات پر غور کرنا پڑے گا۔