صرف جموں و کشمیر میں ہی سرکاری عمارتوں پر ترنگا لہرانا لازمی کیوں: محبوبہ مفتی

پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے سوال کیا ہے کہ صرف جموں و کشمیر میں ہی سرکاری عمارتوں پر ترنگا لہرانا لازمی کیوں بنایا گیا ہے

محبوبہ مفتی / آئی اے این ایس
محبوبہ مفتی / آئی اے این ایس
user

یو این آئی

سری نگر: پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے سوال کیا ہے کہ صرف جموں و کشمیر میں ہی سرکاری عمارتوں پر ترنگا لہرانا لازمی کیوں بنایا گیا ہے۔

انہوں نے بدھ کو یہاں نامہ نگاروں کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: 'ان کے دلوں میں غیر یقینیت ہے۔ ان میں عدم تحفظ کا احساس ہے۔ بھارت کی دوسری ریاستوں میں تو کوئی وزیر اعلیٰ یا ریاست کا سربراہ یہ نہیں کہتا ہے کہ ہر جگہ جھنڈے لہرائو۔ جموں و کشمیر میں ہی کیوں؟ کہیں نہ کہیں ان کو احساس کمتری ہے'۔

واضح رہے کہ جموں و کشمیر میں لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ نے ہر سرکاری دفتر پر ترنگا لہرانا لازمی قرار دیا ہے۔

لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے گزشتہ روز کہا کہ سرکاری دفاتر پر 'ترنگا' نہ لہرانے والے افسران یا اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

دریں اثنا محبوبہ مفتی نے پی ڈی پی سے لیڈران کی رخصتی پر بات کرتے ہوئے کہا: 'جب ہماری جماعت اقتدار میں تھی تو ہم نے اُن کو ایم ایل سی بنایا، راجیہ سبھا کے لئے نامزد کیا اور منسٹر بنایا۔ تب سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا'۔

ان کا مزید کہنا تھا: 'آج پارٹی مشکل میں ہے، پورے جموں و کشمیر کے لئے چیلنجنگ ٹائم ہے تو ایسے وقت میں وہ کس دبائو کے تحت یا کس لالچ کے پیش نظر جا رہے ہیں اس کے بارے میں وہی لوگ کچھ بول سکتے ہیں'۔

محبوبہ مفتی نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ پورے ملک بالخصوص جموں و کشمیر میں اختلاف رائے رکھنا ایک جرم بن گیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا: 'جو بھی ان کی بات سے اختلاف کرتا ہے اس کو جرم سمجھا جاتا ہے اور روز نئے نئے قانون لا کر لوگوں کی زبان بند کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے'۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔