کیا سشما مودی کی وجہ سے سنیاس لے رہی ہیں؟

سشما سوارج چونکہ آر ایس ایس کی درسگاہ سے تعلیم یافتہ نہیں ہیں، وہ خود کو نچلی سطح پر نہیں گرا سکتیں۔ انہوں نے بہتر یہی سمجھا کہ وقار بچائے رکھیں، اس لئےعدم صحت کو بنیاد بنا کر علیحدگی اختیار کرلی۔

By سہیل انجم

بی جے پی کی سینئر رہنما، شعلہ بیان مقرر اور وزیر خارجہ سشما سوراج نے یہ اعلان کرکے کہ وہ اگلا پارلیمانی انتخاب نہیں لڑیں گی، سیاسی پنڈتوں کو حیرت زدہ کر دیا۔ انھوں نے اس فیصلے کی وجہ اگر چہ اپنی عدم صحت کو قرار دیا ہے لیکن یہ سبب لوگوں کے گلے نہیں اتر رہا ہے۔ سیاسی مشاہدین اور وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی صدر امت شاہ کے طرز سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ سشما کے اس فیصلے کے پس پردہ وزیر اعظم مودی اور امت شاہ ہیں۔

سشما اس وقت 66 برس کی ہیں۔ یہ کوئی ایسی عمر نہیں کہ کوئی مقبول سیاست داں سنیاس لے لے۔ ان کی سیاسی زندگی کا دائرہ چار دہائیوں پر پھیلا ہوا ہے۔ وہ سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے بعد دوسری خاتون وزیر خارجہ ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف رہ چکی ہیں۔ دہلی کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ رہی ہیں۔ سابقہ این ڈی اے حکومت میں وزیر اطلاعات و نشریات کا عہدہ سنبھال چکی ہیں۔ موجودہ حکومت میں وہ وزیر خارجہ کے منصب پر فائز ہیں۔ لیکن اس مدت حکومت میں وہ بجھی بجھی سی نظر آتی رہی ہیں۔

در اصل سشما سوراج کا تعلق آر ایس ایس سے نہیں ہے۔ ہاں وہ ایل کے اڈوانی کے قریب رہی ہیں۔ اسی لیے آر ایس ایس کی گڈ بک میں ان کا نام شامل نہیں ہے۔ جب 2013 میں بی جے پی کی جانب سے اس وقت کے گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو انتخابی مہم کی کمان سونپی گئی تو انھوں نے بھی دوسروں کے ساتھ ان کی مخالفت کی تھی۔ جب مودی کو وزیر اعظم کے عہدے کا امیدواربنایا گیا تو انھوں نے اس کی بھی شدید الفاظ میں مخالفت کی۔ اس وقت تو یہ کہا جانے لگا تھا کہ در اصل سشما بھی وزیر اعظم کے منصب کی خواہشمند ہیں۔ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ وہ ایک اچھی وزیر اعظم ثابت ہو سکتی ہیں۔

لیکن جب آر ایس ایس نے مودی کے آگے گھٹنے ٹیک دیے تو دوسروں کی مانند سشما نے بھی خاموشی اختیار کر لی۔ ایل کے اڈوانی کے قریبی لوگوں میں موجودہ وزیر مالیات ارون جیٹلی بھی رہے ہیں۔ لیکن جب انھوں نے مودی کا سورج طلوع ہوتے دیکھا تو اڈوانی کو چھوڑ کر ان کی پوجا شروع کر دی۔ انھوں نے کبھی پارلیمنٹ کا الیکشن نہیں لڑا تھا۔ پہلی بار 2013 میں لڑا اور شکست ان کا مقدر بنی۔ لیکن چونکہ انھوں نے اپنی وفاداری اڈوانی سے مودی کو منتقل کر دی تھی اس لیے مودی نے انھیں اہم قلمدان سونپ دیا۔ آج صورت حال یہ ہے کہ جیٹلی ہی کو ہر مسئلے میں بولنے کو کہا جاتا ہے۔ وہ وزیر مالیات ہیں لیکن مالیاتی امور پر کم اور دوسرے امور پر زیادہ بولتے ہیں۔ بقول ارون شوری اس وقت حکومت ڈھائی آدمی چلا رہے ہیں۔ مودی شاہ اور نصف جیٹلی۔

نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد سشما کو اگر چہ وزیر خارجہ جیسا اہم قلمدان دیا گیا لیکن عملاً وزیر خارجہ مودی ہی بنے رہے اور اب بھی بنے ہوئے ہیں۔ جہاں جہاں وزیر خارجہ کو دورہ کرنا چاہیے وہاں وہاں مودی ہی جاتے ہیں۔ سشما کو جن امور پر بولنا چاہیے ان پر ان کو بولنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ اسی لیے انھوں نے ٹوئٹر کو اپنے اظہار خیال کا پلیٹ فارم بنا لیا۔ لیکن مودی بھکتوں نے اس وقت ان کو مغلظات سنانی شروع کر دیں جب انھوں نے لکھنؤ کے ایک مسلم جوڑے کے پاسپورٹ کے تنازعہ میں ایک سینئر افسر کے خلاف کارروائی کی۔ لیکن سشما نے اپنی روایتی وضعداری کا مظاہرہ کیا اور ٹوئٹریوں کی سطح پر خود کو نہیں گرایا۔

مودی عملاً اس طرح بھی وزیر خارجہ کی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں کہ وزارت خارجہ سے خارجہ امور پر مودی کے زیادہ بیان جاری ہوتے ہیں سشما کے کم۔ بلکہ سشما کے بیانات نہیں کے برابر جاری ہوتے ہیں۔ مودی نے سابقہ روایت کے برخلاف غیر ملکی دوروں میں سشما کو اپنے ساتھ لے جانا کبھی بھی پسند نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خارجہ امور پر گفتگو وزیر خارجہ کرتا ہے۔ مودی یہ کیسے برداشت کر سکتے ہیں کہ ان کی موجودگی میں کوئی دوسرا بولے اور ان کے بجائے دوسرے کی تصویریں میڈیا میں نظر آئیں۔

بی جے پی کے ایک رہنما نے ایک نامہ نگار سے رازداری کی شرط پر بتایا کہ مودی اور شاہ بالخصو ص مودی لوک سبھا ایم پی کو پسند نہیں کرتے۔ وہ راجیہ سبھا ایم پی کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ کیونکہ لوک سبھا ایم پی بہر حال راجیہ سبھا ایم پی سے کہیں زیادہ آزاد ہوتا ہے۔ مودی نے اپنے دور میں چن چن کر ایسے لوگوں کو عہدے بانٹے ہیں جو ان کے ہاتھ کے نیچے رہیں۔ جن کے اندر کبھی بھی سر اٹھانے کی جرأت نہ ہو۔ اسی لیے انھوں نے ایک غیر معروف سیاست داں کو صدر کے اعلیٰ منصب پر فائز کر دیا۔

اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا بھی تعلق آر ایس ایس سے نہیں ہے۔ انھوں نے اپنی الگ سینا بھی بنا رکھی ہے۔ وہ مودی کے بہت حمایتی نہیں تھے۔ لیکن جب مودی وزیر اعظم بن گئے تو انھوں نے سیاسی موقع پرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مودی سے ہاتھ ملا لیا۔ نتیجتاً مودی نے ان کو یو پی جیسی سب سے بڑی ریاست کا وزیر اعلی بنوا دیا۔ اب یوگی مودی کی قصیدہ خوانی میں رطب الساں رہتے ہیں۔

سشما سوراج نے کبھی بھی مودی کی خوشامد نہیں کی۔ البتہ اب ادھر کچھ دنوں سے وہ مودی کی تعریف تو کرنے لگی تھیں لیکن ان کی حاشیہ بردار نہیں بنیں۔ وہ ایک زیرک سیاست داں ہیں۔ انھوں نے ملکی ماحول بھانپ لیا ہے۔ ان کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ اگلے پارلیمانی الیکشن میں بی جے پی کا جیتنا مشکل ہے۔ اور اگر جوڑ توڑ سے مودی حکومت بنا بھی لیں تو پھر وہی لڑائی ہوگی جو اب تک ہوتی رہی ہے۔ سشما کو جو بھی منصب ملے گا وہ نمائشی ہوگا۔ اس کی اصل باگ ڈور مودی کے ہاتھوں میں ہی ہوگی۔

لہٰذا سشما نے سوچا کہ کیوں نہ باعزت طریقے سے الگ ہو جایا جائے۔ اگر بی جے پی کی حکومت نہیں بنی تو وہ خالی ہو جائیں گی۔ اگر بن گئی اور انھیں کوئی اچھا قلمدان مل گیاتو پھر اندرونی کشمکش جاری رہے گی۔ وہ چونکہ آر ایس ایس کی درسگاہ سے تعلیم یافتہ بھی نہیں ہیں اس لیے وہ خود کو نچلی سطح پر نہیں گرا سکتیں۔ اس لیے انھوں نے بہتر یہی سمجھا کہ اپنا وقار بچائے رکھیں اور عدم صحت کو بنیاد بنا کر علیحدگی اختیار کر لیں۔

لیکن ان کے اس اعلان نے ان لوگوں کو شدید کشمکش میں ڈال دیا ہے جن کی عمریں زیادہ ہو چکی ہیں اور جو اب بھی اگلا الیکشن لڑنے کے لالچ میں مبتلا ہیں۔ جیسے کہ ایل کے اڈوانی 91سال اور مرلی منوہر جوشی 84سال۔ ان دونوں کو مودی نے اولڈ ایج ہوم میں ڈال دیا ہے پھر بھی ایم پی بنے رہنے کی ان کی ہوس کم نہیں ہو رہی ہے۔ مارگ درشک منڈل ہی میں کیوں نہ رہیں لیکن رہیں گے ایم پی۔ ان دونوں کے سامنے دھرم سنکٹ پیدا ہو گیا ہے۔

ویسے سشما کی عمر کے آس پاس کئی وزرا ہیں۔ جیسے کہ راج ناتھ سنگھ 67، نتن گٹکری 61، پیوش گوئل 54، دھرمیندر پردھان 49، نرملا سیتا رمن 59 اور اسمرتی ایرانی 42۔ راج ناتھ سنگھ کو چھوڑ کر باقی وزرا کے سامنے ابھی بہت وقت ہے کھیلنے کھانے کا۔