سی بی آئی ہیڈکوارٹر میں 23 اور 24 اکتوبر کی درمیانی رات کو کیا ہوا تھا؟

کانگریس لیڈر ملکارجن کھڑگے نے آلوک ورما کو ہٹائے جانے کی نہ صرف مخالفت کی بلکہ 79 روز قبل جب انھیں آدھی رات میں چھٹی پر بھیجا تھا، اس وقت کیا کچھ ہوا تھا اس سارے معاملہ کی جانچ کرانے کی بھی مانگ کی۔

قومی آوازبیورو

سپریم کورٹ کے اس آرڈر کی روشنائی ابھی سوکھی بھی نہیں تھی جس میں اس نے سی بی آئی ڈائریکٹر آلوک ورما کو ان کے عہدے پر بحال کیا تھا ، اور سلیکشن کمیٹی نے آلوک ورما کو سی بی آئی سے ہٹا کر فائر سروسز میں بھیج دیا ۔ آلوک ورما کو سی بی آئی سے ٹرانسفر کرنے کا فیصلہ تین رکنی سلیکشن کمیٹی نے 1-2 کی اکثریت سے لیا اور تین میں سے ایک ملکارجن کھڑگے نے آلوک ورما کو ٹرانسفر کرنے کی مخالفت کی۔ کھڑگے نے نہ صرف مخالفت کی بلکہ 79 روز پہلے جب آلوک ورما کو آدھی رات میں چھٹی پر بھیجا تھا، اس آدھی رات کو کیا کچھ ہوا تھا اس سارے معاملہ کی جانچ کرانے کی بھی مانگ کی ۔

23 اور 24 کی درمیانی رات کو کیا ہوا تھا اور آلوک ورما کو چھٹی پر بھیجنے سے پہلے کیا کچھ ہوا تھا، اس کی لوک سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما اور کانگریس کے سینئر رہنما ملکارجن کھڑگے نے جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔

23 اکتوبر 2018: سینٹرل وجلینس کمشنر (سی وی سی ) شام میں ڈنمارک کے لئے روانہ ہونے والے تھے۔ آخری وقت میں یہ دورہ کینسل کیا گیا اور سینٹرل وجیلینس کمشنر، جن کے سپر ویژن میں سی بی آئی کام کرتی ہے، انہوں نے اسی دن شام کو ایک میٹنگ کی۔

23 اکتوبر 2018، رات 11 بجے: سی بی آئی کے جوائنٹ ڈائریکٹر ناگیشور راؤ جن کو اسی دن رات کو سی بی آئی ڈائریکڑ کا عارضی چارج دیا گیا تھا، ان کو سی بی آئی ہیڈکوارٹر بھیجا گیا اور یہ الزام ہے کہ ایسا سی وی سی کے آنے والے آرڈر کے پیش نظر کیا گیا تھا ۔

23 اکتوبر 2018، رات 11.30 بجے: دہلی پولس کمشنر نے ایک ٹیم کو خان مارکیٹ بلایا اور ان کو آدھی رات میں ہونے والے ممکنہ آپریشن کے بارے میں بتایا۔

23 اکتوبر 2018، رات 12 بجے: الزام ہے کہ نیشنل سیکورٹی ایڈ وائزر (این ایس اے) سے پولس کو ہدایت ملی کہ ان کو سی بی آئی ہیڈ کوارٹر کو اپنے کنٹرول میں لینا ہے۔ سی آئی ایس ایف پولس کو سی بی آئی ہیڈکوارٹر میں داخل ہونے سے روکتی ہے لیکن پھر اس کو ایسا نہ کرنے کے لئے ہدایت ملتی ہے( ذرائع کے مطابق ملکارجن کھڑگے کے نوٹ میں ذکر ہے کہ ہدایت دینے والا ممکنہ طور ر پر وزیر اعظم کا دفتر اور نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر ہو سکتا ہے)۔

24 اکتوبر 2018، صبح 12.30 بجے: سی وی سی آرڈر جاری کرتا ہے کہ سی بی آئی ڈائریکٹر آلوک ورما کو تمام ذمہ داریوں سے سبکدوش کر دیا جائے ۔

24 اکتوبر 2018، 12.30 سے صبح 1 بجے کے درمیان: سی وی سی کا آرڈر فوری طور پر نارتھ بلاک میں بیٹھے سکریٹری (پرسونل) کو بھیجا جاتا ہے جن کے اپنے دفتر میں آدھی رات کے بعد موجود ہونے پر حیرانی تھی ۔ سکریٹری فوری طور پر وزیر اعظم کے دفتر جاتے ہیں جہاں وزیر اعظم کی صدارت والی اپائنٹمنٹ کی کابینہ کمیٹی کے اہلکار سی وی سی کے آرڈر کو منظوری دینے کے لئے انتظار کر رہے تھے۔

24 اکتوبر 2018، رات 2.30 بجے: دو اعلی افسر جس میں ایک کا تعلق سی وی سی سے تھا اور ایک کا ڈپارٹمنٹ آف پرسونل اینڈ ٹریننگ (ڈی او پی ٹی) سے تھا، وہ سی بی آئی ہیڈ کوارٹر پہنچتے ہیں اور ایک سینئر سی بی آئی افسر کے ساتھ باہر آتے ہیں اور کچھ فائلیں اور ریکارڈس لے کر چلے جاتے ہیں ۔

ذرائع کے مطابق کھڑگے نے جو اپنا نوٹ دیا ہے اس میں وہ مندرجہ بالا الزامات کی جانچ کروانا چاہتے ہیں۔

(یہ آج کے انگریزی اخبار ’ٹیلی گراف‘میں شائع ہوا ہے)

Published: 11 Jan 2019, 9:39 AM