ہم لاکھ کوششیں کریں تو بھی تین ماہ میں سپر اسپیشلٹی اسپتال نہیں بنا سکتے: لیفٹیننٹ گورنر

منوج سنہا نے کہا کہ 'جموں و کشمیر کورونا کے خلاف جاری لڑائی میں اب تک کافی حد تک کامیاب رہا ہے۔ ہمارے وسائل محدود ہیں۔ ہم لاکھ کوششیں کریں تو بھی تین ماہ میں سپر اسپیشلٹی اسپتال نہیں بنا سکتے ہیں'۔

منوج سنہا / تصویر یو این آئی
منوج سنہا / تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

سری نگر: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جموں و کشمیر کے عوام کو کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں اسپتالوں کی تعداد محدود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم لاکھ کوششیں کریں گے تو بھی تین ماہ میں سپر اسپیشلٹی اسپتال نہیں بنا سکتے ہیں۔ لیفٹیننٹ گورنر نے یہ باتیں منگل کو یہاں شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سنٹر میں جموں و کشمیر کے بعض مذہبی رہنماؤں سے کورونا وائرس کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہیں۔

انہوں نے کہا کہ 'میں آپ سے ہاتھ جوڑ کر یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ یہ مشکل وقت ہے۔ اس میں آپ کا تعاون بہت ضروری ہے۔ سرکاری مشینری اپنا کام کر رہی ہے لیکن اس کی اپنی سرحدیں ہیں۔ آپ کورونا سے متعلق لوگوں میں آگاہی پیدا کر سکتے ہیں'۔

منوج سنہا نے لوگوں سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ 'کچھ دن پہلے میں چرار شریف سے لوٹ رہا تھا۔ میں نے ایک بازار میں بہت کم لوگوں کو ماسک پہنے ہوئے دیکھا۔ طبی ماہرین نے کورونا سے بچاؤ کے لئے ماسک کے استعمال، سماجی دوری اور صفائی ستھرائی کو ضروری قرار دیا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'ہمیں بچنا بھی ہے اور جموں و کشمیر کو آگے بڑھانا بھی ہے۔ ہم تبھی آگے بڑھ سکتے ہیں جب ہم خود بچیں گے'۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر کے پاس کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے اسپتالوں کی تعداد محدود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'جموں و کشمیر کورونا کے خلاف جاری لڑائی میں اب تک کافی حد تک کامیاب رہا ہے۔ ہمارے وسائل محدود ہیں۔ اسپتالوں کی تعداد بھی محدود ہے۔ ہم لاکھ کوششیں کریں تو بھی تین ماہ میں سپر اسپیشلٹی اسپتال نہیں بنا سکتے ہیں'۔

سرکاری ترجمان کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر نے مذہبی رہنماؤں کے سماجی شمولیت کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے انہیں اس وبا کے پھیلاؤ پر قدغن لگانے کے لئے لوگوں کے برتاؤ میں تبدیلی لانے، وبا سے متعلق جانکاری عام کرنے اور مثبت معاملات کی نگرانی کرنے کے انتظامیہ کی کوششوں پر معاونت کرنے کے لئے کہا۔

اپنے خطبے میں لیفٹینٹ گورنر نے کووڈ وبا کی موثر روک تھام کے لئے 4 اہم پہلوؤں بشمول ٹیسٹنگ، طبی نظام کی تیاری، بیماری کی روک تھام کے لئے مثبت معاملات پر نظر رکھنے اور انفرادی برتاؤ پر روشنی ڈالی۔ یہ چار پہلو نیتی آیوگ کے رکن ڈاکٹر وی کے کول نے اجاگر کیے ہیں۔ لیفٹینٹ گورنر نے مذہبی قائدین کو لوگوں کو قوت مدافت بڑھانے کے لئے باقاعدہ ورزش کرنے، مقوی غذا کھانے اور آیورویدک اور یونانی ادویات استعمال کرنے کے لئے بھی کہا۔ مذہبی قائدین نے یوٹی انتظامیہ کو یقین دلایا کہ وہ جاری وبا کے خلاف لڑائی میں انہیں بھر پور تعاون فراہم کریں گے۔

next