یوگی راج میں دلت کا کاٹا گیا ہاتھ پیر، اور پھر چارپائی سے باندھ کر کیا نذرِ آتش

اتر پردیش کے پرتاپ گڑھ میں سنسنی خیز واردات سامنے آئی ہے۔ ضلع کے بیلارام گاؤں میں ایک دلت کے ہاتھ پیر کاٹ کر چارپائی سے باندھ کر زندہ جلا دیا گیا۔ اس واقعہ کی خبر سے علاقے میں کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

اتر پردیش کی یوگی حکومت میں دلتوں پر مظالم کے واقعات ہمیشہ منظر پر آتے رہے ہیں اور ایک بار پھر ایک دلت کا بے رحمی سے قتل کیے جانے کا معاملہ پیش آیا ہے۔ پرتاپ گڑھ کے پٹی کوتوالی علاقے کے بیلارام پور میں گاؤں کے باہر پمپنگ سیٹ پر سو رہے دلت کسان کے ہاتھ پیر کاٹنے کے بعد اسے چارپائی سے باندھ کر زندہ جلا دیا گیا۔ اس کی لاش پوری طرح سے جل گئی تھی۔ اس واقعہ کی خبر پھیلتے ہی علاقے میں کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ آناً فاناً موقع پر پہنچی پولس کو گاؤں والوں نے لاش اٹھانے سے انکار کر دیا۔ کسی طرح شام کو لاش اٹھا کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجا جا سکا۔

ہندی روزنامہ ’امر اجالا‘ میں شائع خبر کے مطابق پٹی کوتوالی کے بیلا رام پور باشندہ ونے کمار سروج عرف ببلو (33 سال) کھیتی کرنے کے ساتھ ہی خنزیر پروری کا کاروبار کرتا تھا۔ اتوار کی شب وہ فیملی کے ساتھ ہندوستان-پاکستان کا میچ دیکھ رہا تھا۔ میچ ختم ہونے کے بعد وہ گھر سے قریب تین سو میٹر دور کھیت میں لگے پمپنگ سیٹ پر دھان کی نرسری کی رکھوالی کرنے کے لیے چلا گیا۔

خبروں کے مطابق پیر کی علی الصبح تقریباً پانچ بجے ونے کا بھائی اوم پرکاش پمپنگ سیٹ پر جانے کے لیے نکلا۔ کچھ دور پہلے ہی اسے پمپنگ سیٹ کے پاس بنے چھپّر سے دھواں اٹھتا نظر آیا۔ وہ جب چھپّر کے پاس پہنچا تو پایا کہ اس کے بھائی ونے کی لاش جل رہی تھی۔ اسے چارپائی سے باندھا گیا تھا اور ہاتھ پیر کٹے ہوئے تھے۔ یہ دیکھ کر اس کے ہوش اڑ گئے اور اس نے شور مچایا۔ چیخ پکار سن کر گاؤں والے موقع پر پہنچے اور سب کچھ دیکھ کر حیران رہ گئے۔ دیکھتے دیکھتے علاقے میں یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی۔ پولس کو خبر دی گئی لیکن کافی دیر بعد پولس موقع پر پہنچی۔

واقعہ سے ناراض لوگوں نے پولس کو لاش اٹھانے سے روک دیا۔ لوگ ڈی ایم کو موقع پر بلانے کا مطالبہ کرنے لگے۔ جائے وقوع پر انچارج پولس سپرنٹنڈنٹ اور ایس ڈی ایم پٹی سمیت آس پاس کے تھانوں کے پولس فورس کو بلا لیا گیا۔ کافی ہنگامہ کے بعد شام تقریباً ساڑھے چار بجے ڈی ایم مارکنڈے شاہی جائے وقوع پر پہنچے اور لوگوں کو کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔ اس کے بعد ہی پولس لاش کو اپنے قبضے میں لے سکی۔

اس موقع پر مارکنڈے شاہی نے مہلوک کی فیملی کو 9 لاکھ روپے کی معاشی مدد، اسلحہ لائسنس سمیت سیکورٹی مہیا کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ مہلوک کے بھائی اوم پرکاش کی تحریر پر پولس نے نامعلوم لوگوں کے خلاف قتل و ثبوت چھپانے کا مقدمہ درج کر لیا۔ اس معاملے میں پولس نے مہلوک ونے سروج کے خنزیر باڑے میں پارٹنر وجیندر کو حراست میں لیا ہے۔ اس سے پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے۔