اقوام متحدہ نے بھی معاشی محاذ پر مودی حکومت کو دیا جھٹکا، عالمی شرح ترقی زوال پذیر

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق سال 2020 میں عالمی معیشت میں 2.5فیصد کا اضافہ ہونے کی امید ہے ،لیکن تجارتی تنازعہ ،عالمی اتھل پتھل یا زمینی سیاسی تنازعات میں اضافہ ہونے پر اس اضافی شرح میں کمی آسکتی ہے

وزیر اعظم نریندر مودی
وزیر اعظم نریندر مودی
user

قومی آوازبیورو

ملک میں گھٹتی طلب اور بڑھتی مہنگائی کے درمیان اقوام متحدہ نے معاشی محاذ پر مودی حکومت کو زبردست جھٹکا دیا ہے۔ اس نے ہندوستان کی جی ڈی پی شرح کے اندازے کو گھٹا دیا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی معاشی شرح ترقی رواں مالی سال میں 5.7 فیصد تک رہ سکتی ہے۔ یہ عالمی ادارہ کے قبل کے اندازے سے کم ہے۔ گزشتہ سال اقوام متحدہ نے مالی سال 20-2019 میں جی ڈی پی 7.6 فیصد رہنے کا اندازہ ظاہر کیا تھا۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں یہ بات بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ سال 2019 میں عالمی معیشت کی رفتار گزشتہ ایک دہائی کی نچلی سطح پر رہی۔ اقوام متحدہ نے عالمی اقتصادی حالات اور امکانات 2020 پر اپنی رپورٹ میں بتایا کہ لمبے تجارتی تنازعہ کی وجہ سے 2019 میں عالمی معیشت میں 2.3 فیصد سے اضافہ ہوا۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق سال 2020 میں عالمی معیشت میں 2.5فیصد کا اضافہ ہونے کی امید ہے ،لیکن تجارتی تنازعہ ،عالمی اتھل پتھل یا زمینی سیاسی تنازعات میں اضافہ ہونے پر اس اضافی شرح میں کمی آسکتی ہے۔ اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ عالمی اقتصادی سرگرمیوں میں لمبے وقت تک کمزور رہنےسے مکمل ترقی کے ہدف کو حاصل کرنے میں اہم جھٹکا لگ سکتا ہے،جس میں غریبی کے خاتمے اور سبھی طرح کی نوکریوں کے مواقع پیداکرنے بھی ہدف میں شامل ہے۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ وسیع اختلافات اور بڑھتاماحولیاتی بحران دنیا کے کئی حصوں میں عدم اطمینان کو فروغ دہے رہا ہے۔

اس درمیان اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گٹیرس نے عالمی برادری کوآگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’یہ جوکھم ترقی کے امکانات پر شدید اور لمبے وقت تک نقصان دہ اثر ڈال سکتے ہیں۔‘‘

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)