جھارکھنڈ میں مویشی چوری کے شبہ میں دو مسلم نوجوانوں کا پیٹ پیٹ کر قتل

ریاست میں موب لنچنگ کی بڑھتی وارداتوں کے باوجودپولس کی تساہلی برقرار

بی جے پی کی قیادت میں این ڈی اے حکومت کے مرکزمیں قابض ہونے کے بعدسے ملک کے دلتوں اوراقلیتوں کے خلاف شروع ہواظلم وتشددتھمنے کانام نہیں لے رہاہے۔یہ سلسلہ اگلے سال ہونے والے لوک سبھاانتخابات کے پیش نظرکچھ زیادہ ہی بڑھتاجارہاہے۔یہاں تک کہ موجودہ وقت میں آئے دن کہیں نہ کہیں سے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پروحشیانہ تشددکی دل دہلادینے والی خبریں سننے کومل رہی ہیں جس سے حکومت کے تئیں عوامی حلقے میں زبردست ناراضگی پائی جارہی ہے۔

تازہ معاملہ جھارکھنڈکے گوڈا ضلع کاہے جہاں مشتعل گاؤں والوں نے محض جانور وں کی چوری کے شک میں دو افراد کا پیٹ پیٹ کر قتل کردیا۔ اطلاعات کے مطابق دللو گاؤں کے رہنے و الے سہرا ب الدین انصاری ( 35) اور مرتضیٰ انصاری (30) کی شرپسندوں کی بھیڑ نے اتنی بے رحمی سے پٹائی کی کہ دونوں کی موقع پر ہی موت ہوگئی۔ گاؤں والوں نے ان دونوں پر بھینس چرانے کا الزام لگایا ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ پولس نے بھی ظالم کی گواہی پریقین کیااورمظلوم کوگناہگار’مان‘لیا۔

اس سلسلے میں گوڈا ضلع کے ایس پی راجیو کمار سنگھ کاکہناہے کہ ملزم گاؤں والوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے چوری کی بھینسوں کو ان دونوں کے یہاں سے برآمد کیاہے۔پولس کے مطابق مقتولین ضلع گوڈاکے تلجھاری گاؤں کے رہنے والے تھے۔ پولس کے مطابق اس معاملہ میں چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ایس پی کے مطابق مقتولین کے خلاف اس سے پہلے بھی جانور وں کی چوری کا معاملہ درج ہوچکا ہے۔

ایس پی نے بتایا کہ پورے معاملہ میں اب تک دو ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ پہلا معاملہ بھیڑ کے ذریعہ پیٹ پیٹ کر قتل کرنے اورفسادکی مختلف دفعات میں مقدمہ درج کیاگیاہے جب کہ دوسرا معاملہ جانور چوری کا درج کیا گیا ہے۔ فی الحال جانچ جاری ہے۔

ریاست میں پیش آرہے سلسلہ وار واقعات میں یہ تازہ معاملہ ہے۔واضح رہے کہ ابھی دوروزقبل ہی جھارکھنڈکے راتوکے گاؤں سے نماز تروایح مکمل کرکے گھر واپس ہورہے مولانا اظہر الاسلام اور ان کے بھائی عمران پر ان کے ہی اپنے آبائی گاؤں میں جارحانہ حملہ کرکے بری طرح زخمی کردیاگیاتھا۔اس گناہ میں 20 سے 25 شرپسندشامل تھے جو اسکارپیو گاڑی میں گاؤں اگڈوکے ڈالڈائی چوک کے قریب پہنچے اور مذہبی اور طبقات کی بنیاد پر دونوں کے ساتھ بدسلوکی کرنی شروع کردی او ریہاں تک کہ انہیں جبراً ’’جے شری رام‘‘ کےنعرے لگانے کے لئے بھی مجبور کیا۔جب امام اوران کے بھائی نے ایسا کرنے سے انکار کیا توتشددپرآمادہ شرپسندوں کی بھیڑ نے ہاکی اورڈنڈوں سے ان کی پٹائی شروع کردی۔کسی بھی طرح مولاناکے بھائی عمران جائے واردات سے بھاگنے میں کامیاب ہوگئے مگر شیطان صفت انسان مولانا اظہر الاسلام کو بے رحمی کے ساتھ پیٹتے رہے اورانہیں نیم مردہ حالت میں چھوڑکرفرارہوگئے۔کچھ دیربعددیگرلوگوں کے ساتھ موقع پرپہنچے عمران نے نازک حالات میں انہیں رانچی کے اسپتال میں بھرتی کرایا۔

غیر مصدقہ ذرائع کی خبر ہے کہ اسپتال میں ان کے ساتھ بہترسلوک نہیں کیا گیاجس کی وجہ سے انہیں دوسرے اسپتال میں منتقل کیاگیا۔واقعہ کے متعلق جانکاری ملنے کے بعدہی ایس ایس پی نے اس بات کابھروسہ دلایاتھا کہ حملہ آوروں کو بخشا نہیں جائے گامگرتادم تحریرکسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

اس سے پہلے مارچ میں جھارکھنڈ کی ایک عدالت نے جون2017میں ایک مسلم تاجرکوپیٹ پیٹ کرقتل کرنے کے کے معاملے میں بی جے پی لیڈرسمیت 10 افراد کومجرم ٹھہرایاتھا۔ملزمین نے رام گڑھ ضلع میں ایک گاڑی میں بیف لے جانے کے شک میں55سال ایک مسلم بزرگ کوپیٹ پیٹ کرموت کے گھاٹ اتاردیاتھا۔ 2017میں جھارکھنڈمیں موب لنچنگ کی تقریباًنصف درجن وارداتیں ہوچکی ہیں باوجوداس کے انتظامیہ اپنارویہ بدلنے کوتیارنہیں ہے۔

سب سے زیادہ مقبول