نہ مودی بھروسے، نہ رام بھروسے، 2019 بی جے پی کے لیے بھاری...ظفر آغا

گزشتہ چار سالوں میں ملک کی حالت دگر گوں ہو گئی۔ 2014 سے 2019 آتے آتے نریندر مودی کی ایسی حیثیت باقی نہیں رہی کہ ان کے نعروں کے فریب میں عوام دوبارہ بی جے پی کو دہلی کے تخت پر بٹھا دے۔

By ظفر آغا

زمین کھسکنے لگی ہے۔ نہ تو نریندر مودی میں وہ چمک بچی جو 2014 کے لوک سبھا انتخابات کے وقت تھی اور نہ ہی بی جے پی ہر مسئلہ کا حل مہیا کرنے والی پارٹی بچی ہے۔ ہندوستانی عوام ایسی بھی بیوقوف نہیں کہ چار سالوں تک لگاتار مودی حکومت کا جھوٹ برداشت کرتی رہے اور اب بھی اس کی سمجھ میں یہ نہ آ سکے کہ بی جے پی حکومت ایک نکمی حکومت ہے۔ آخر عوام کے صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ گزشتہ چار سالوں میں عوام نے جو کچھ برداشت کیا ہے وہ حد پار کر چکا ہے۔ ملک کی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو وزیر مالیات آر بی آئی کے گورنر کو بلا کر یہ نہیں کہتے کہ بینک کے پاس جو ریزرو پونجی ہے وہ حکومت کے حوالے کر دے۔ ریزرو بینک کی یہ پونچی بینک کے پاس اس لیے جمع ہوتی ہے کہ اگر ملک کو کسی ایمرجنسی کی حالت کا سامنا کرنا ہو تو حکومت ایسے ماحول میں اس پونجی کا استعمال کر سکے۔ مان لیجیے کہ اگر کل ملک پر پاکستان حملہ کر دے اور فوج کو اپنے بجٹ سے کہیں زیادہ روپیوں کی ضرورت پڑے تو ایسے مشکل وقت میں ریزرو بینک کی جمع پونجی ملک کی سیکورٹی کے کام آ سکتی ہے۔ لیکن گزشتہ چار سالوں میں کبھی نوٹ بندی تو کبھی مالیا اور نیرو مودی جیسے بینک لٹیروں نے ملک کی معیشت کو زبردست جھٹکا دیا ہے۔ اب یہ عالم ہے کہ وزیر مالیات ریزرو بینک سے بھیک مانگ رہے ہیں۔

گزشتہ چار سالوں میں ملک کی حالت دگرگوں ہو گئی ہے۔ انتظام و انصرام کی یہ حالت ہے کہ کبھی سی بی آئی کے اعلیٰ افسر آپس میں لڑتے ہیں تو کبھی رافیل معاملہ میں حکومت سپریم کورٹ میں وضاحت پیش کر رہی ہوتی ہے۔ 2014 میں ’نہ کھاؤں گا نہ کھانے دوں گا‘ کہنے والے مودی جی اب خود بدعنوانی کے الزام میں پھنسے ہیں۔ ملک کے باشندے جس بدتر حالت میں ہیں، اس کا بیان مشکل ہے۔ روزگار غائب ہے، نوجوان بے حال ہیں، کسان سر پکڑ کر بیٹھے ہیں کیونکہ اس کو لاگت بھی نصیب نہیں۔ یونیورسٹیوں میں حکومت اور آر ایس ایس کی دراندازی نے تعلیمی نظام کا ناک میں دَم کر دیا ہے۔ بس یوں سمجھیے کہ مودی حکومت نے گزشتہ چار سالوں میں ملک کی جو حالت کی ہے وہ 70 سالوں میں کبھی نہیں ہوئی۔

ان حالات میں مودی جی کی پھر 2019 میں دوبارہ تاجپوشی کیسے ہو! 2014 سے 2019 آتے آتے نریندر مودی کی ایسی حیثیت باقی نہیں رہی کہ ان کے نعروں کے فریب میں عوام دوبارہ بی جے پی کو دہلی کے تخت پر بٹھا دے۔ آر ایس ایس ہندوستان کو جلد ہندو راشٹر بنانا چاہتی ہے، اس لیے اب مسئلہ یہ ہے کہ مودی جی کو 2019 میں دوبارہ تاج کس طرح پہنایا جائے۔ مشکل وقت میں آر ایس ایس فیملی کو ہمیشہ بھگوان رام اور سَنت سماج یاد آتا ہے۔ آپ سن رہے ہیں کہ گزشتہ ایک مہینے سے رام مندر تعمیر کی آواز پھر سے بلند ہونے لگی ہے۔ ابھی دیوالی کے موقع پر یوگی جی نے ایودھیا جا کر گھر گھر دیے جلوائے، بھگوان رام کی مورتی لگوانے کا اعلان کیا۔ دہلی میں سَنت سمیلن بھی کروایا گیا۔ دو ماہ بعد کمبھ میلہ میں رام مندر تعمیر کے تعلق سے کسی بڑے اعلان کی تیاری ہے۔ بالآخر آر ایس ایس کو یہ تو سمجھ میں آ ہی گیا کہ آئندہ انتخاب میں مودی کھوٹا سکہ ہیں۔ آئندہ انتخاب جیتنے کے لیے اب صرف بھگوان رام کا بھروسہ بچا ہے۔ یعنی 2019 میں بی جے پی مودی بھروسے نہیں، رام بھروسے ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بھگوان رام 2019 میں بی جے پی کی کشتی پار لگائیں گے؟

اب اس پارٹی پر بھگوان رام کا رحم و کرم ہونا بھی بہت مشکل ہے۔ وجہ یہ ہے کہ 2019 کسی بھی طرح سے 1980 یا 1990 کی دہائی نہیں کہ جب رام مندر کے نعرے پر بی جے پی ملک کی اہم سیاسی پارٹی بن گئی۔ اس وقت جو کچھ ہوا، اس میں مسلمانوں کی غیر دانشمندانہ حکمت عملی اور بابری مسجد ایکشن کمیٹی جیسی ایک مسلم تنظیم نے بھی بہت بڑا کردار ادا کیا تھا۔ 1990 کی دہائی میں بابری مسجد کھڑی تھی جس کی حفاظت کے لیے بابری مسجد ایکشن کمیٹی مسلمانوں کی بڑی بڑی ریلیاں کرا رہی تھی۔ ’نعرۂ تکبیر، اللہ اکبر‘ کی گونج میں ہزاروں مسلمانوں کا یہ اعلان کہ وہ کسی بھی حال میں بابری مسجد بچائیں گے یعنی رام مندر نہیں بننے دیں گے، اس وقت ہندوؤں کو مشتعل کرنے کا سبب بن رہا تھا۔ اس طرح رام مندر کا معاملہ ’اللہ بنام بھگوان رام‘ بن گیا۔ اس نے سیاسی سطح پر ہندو ووٹ بینک بنا دیا جس کا فائدہ بی جے پی کو 1991 کے لوک سبھا انتخابات میں ملا اور ملک بھگوا لہر میں بہہ گیا۔ لیکن اب تو رام مندر تعمیر روکنے کے لیے کوئی مسلمان دور دور تک نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ نہ تو بابری مسجد بچی اور نہ ہی کوئی بابری مسجد ایکشن کمیٹی رہی جو ہندوؤں میں اشتعال پیدا کرے۔ اس وقت جو مسلم حکمت عملی سارے معاملے کو کورٹ پر چھوڑنے کی ہے وہ انتہائی موزوں ہے۔ اب معاملہ سپریم کورٹ اور رام للا کے درمیان ہے۔ مودی حکومت کے پاس مکمل اکثریت ہے۔ اگر اب وہ آرڈیننس لا کر رام مندر تعمیر نہیں کرتی تو ہندوؤں کا اشتعال مودی حکومت کے خلاف پیدا ہونا چاہیے۔ پھر 1990 کی دہائی میں بی جے پی اپوزیشن میں تھی۔ اس وقت اس نے نہ تو عوام کو 15 لاکھ روپے بینک میں جمع کرنے کے وعدے کیے تھے اور نہ ہی 2 کروڑ نوجوانوں کو ہر سال روزگار دینے کا سبز باغ دکھایا تھا۔ اب تو چار سالوں سے مودی جی ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ ان کے 2014 میں کیے وعدے کھوکھلے ثابت ہو چکے ہیں۔ مودی حکومت پوری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ اس کے گلے میں اقتدار مخالف لہر کا پھندا پڑا ہے۔ ایسے میں صرف بھگوان رام کس طرح بی جے پی کی کشتی پار لگا دیں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ 2019 میں بی جے پی بری طرح پھنس چکی ہے۔ مودی پر بھروسہ تو ختم ہی ہے، رام بھروسے بھی کچھ ہاتھ لگتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ 2019 میں بی جے پی کے لیے بڑی مشکل ہے ڈگر پنگھٹ کی، تو کوئی مبالغہ نہیں ہوگا۔