لوگوں کا سب کچھ برباد ہو گیا لیکن ایم پی حکومت ’اَنّ اُتسو‘ منانے میں مصروف: کمل ناتھ

مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے ایک بیان جاری کر کہا ہے کہ ’’ریاست کے گوالیر-چمبل علاقہ سمیت کئی اضلاع سیلاب کی زد میں ہیں، 1250 سے زائد گاؤں اب بھی بے حال ہیں۔‘‘

کانگریس رہنما کمل ناتھ
کانگریس رہنما کمل ناتھ
user

قومی آوازبیورو

کورونا انفیکشن کے سبب غرب طبقے پر پڑے اثرات کے مدنظر مفت راشن تقسیم کے لیے 7 اگست کو ’پردھان منتری غریب کلیان اَن یوجنا‘ کے تحت ’اَنّ اُتسو‘ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس پر سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے سیلاب کی حالت کا تذکرہ کرتے ہوئے انگلی اٹھائی ہے۔

سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے جمعہ کو ایک بیان جاری کر کہا کہ ’’ریاست کے گوالیر-چمبل علاقہ سمیت کئی اضلاع زبردست سیلاب کی زد میں ہیں، 1250 سے زیادہ گاؤں اب بھی اس سیلاب سے بے حال ہیں۔ کئی لوگوں کی جان اس سیلاب کے سبب جا چکی ہے، ہزارں لوگ اب بھی اس سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں۔ کئی گاؤوں کا سڑک رابطہ پوری طرح سے ٹوٹ چکا ہے۔ کئی بڑے اور چھوٹے پل-پلیا بہہ چکے ہیں۔ علاقے کے قومی شاہراہ سمیت کئی سڑکیں اکھڑ چکی ہیں، تباہ ہو چکی ہیں۔ کئی مکان پوری طرح سے متاثر ہو چکے ہیں، فصلیں برباد ہو گئی ہیں۔ مویشیوں کی بھی جان گئی ہے، لوگوں کے گھر کا پورا ساان اس سیلاب کے پانی میں بہہ چکا ہے، لوگوں کے آنسو نہیں تھم رہے ہیں، لوگوں کا سب کچھ برباد ہو چکا ہے۔‘‘


کمل ناتھ نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ریاست مدھیہ پردیش کو اس وقت مشکلات کا سامنا ہے اور شیوراج حکومت ریاست میں 7 اگست کو عظیم الشان طریقے سے ’اَنّ مہوتسو‘ منانے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ راشن دکانوں کو غبارے لگا کر، زور و شور طریقے سے ہورڈنگ-پوسٹر لگا کر سجایا جا رہا ہے، لوگوں کو کارڈ تقسیم کیے جا رہے ہیں، ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔ پوری حکومت اس انعقاد کی تیاریوں میں لگی ہوئی ہے، وہیں دوسری طرف ریاست کا بڑا حصہ سیلاب کی زد میں ہے۔ ابھی ضرورت ہے کہ سیلاب میں پھنسے لوگوں کی زندگی کو بچایا جائے، راحت اور بچاؤ کام میں تیزی لائی جائے، بنیادی ڈھانچوں کی از سر نو تعمیر کی جائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔