سروے: راجستھان، ایم پی اور چھتیس گڑھ میں عوام کی رائے، کانگریس کی جیت یقینی

اسمبلی انتخابات سے قبل منظر عام پر آئے ایک سروے کے مطابق راجستھان کے عوام بی جے پی سے برہم ہیں اور ایم پی میں راجستھان سے بھی زیادہ ناراضگی ہے، ادھر چھتیس گڑھ میں بھی بی جے پی کی حالت خراب ہے۔

راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے اسمبلی انتخابات سے پہلے تینوں ریاستوں میں کرائے گئے ایک سروے میں عوام کی رائے میں کانگریس سب سے آگے ہے۔ کانگریس پارٹی کے نوتشکیل شدہ ڈیٹا اینیلسٹ شعبہ کی طرف سے تینوں ریاستوں میں کرائے گئے ایک اندرونی سروے میں واضح طور پر تینوں ریاستوں میں کانگریس کی حکومت بنتی نظر آ رہی ہے۔

کانگریس کے ڈیٹا اینیلسٹ شعبہ کے صدر پروین چکرورتی کے مطابق تینوں ریاستوں کی بی جے پی حکومتوں سے عوام برہم ہے۔ انہوں نے سروے کے اعداد و شمار کے محض اندرونی استعمال کے لئے ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے سیٹوں کی بنیاد پر نتائج بتانے سے تو منع کر دیا، تاہم انہوں نے بتایا کہ تینوں ریاستوں میں حکومتوں کے تئیں عوام کے عدم اعتماد کی وجوہات الگ الگ ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سروے کے مطابق راجستھان میں عوام کے برہم ہونے کی وجہ کسانوں کی بدحالی ہے۔ وہیں مدھیہ پردیش میں برہمی کی وجہ بے روزگاری ہے۔ جبکہ چھتیس گڑھ میں دلتوں اور پسماندہ طبقات میں ان پر کئے جا رہے ظلم و ستم کی وجہ سے ناراضگی پائی جا رہی ہے۔

پروین چکرورتی نے چھتیس گڑھ کے تعلق سے کہا، ’’ہمارے نتائج سے صاف ہے کہ دلت موجودہ حکومت کو ہر قیمت پر بدلنا چاہتے ہیں۔ یہ بھی صاف ہے کہ کانگریس پارٹی ہی ان ریاستوں میں موجودہ بی جے پی حکومت کا واحد متبادل ہے۔ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ریاست میں او بی سی طبقہ بھی اسی ایک پارٹی کو ووٹ کرے گا جس میں موجودہ حکومت کو تبدیل کرنے کی قوت ہوگی۔‘‘

پروین چکرورتی نے صاف طور پر بتایا کہ سروے میں یہ بات واضح طور پر نکل کر آئی ہے کہ تینوں ریاستوں میں عوام کی اولین پسند کانگریس ہے۔ انہوں نے کہا کہ سروے کے نتائج انہوں نے ہر ایک اسمبلی حلقہ کے کانگریس امیدواروں کو دستیاب کرا دئے ہیں، جس سےآنے والے اسمبلی انتخابات انہیں مدد مل سکے۔

سب سے زیادہ مقبول