اینٹی باڈی ٹیسٹ کِٹس دے رہے غلط ریزلٹ، آئی سی ایم آر نے استعمال کرنے سے کیا منع

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ آئی سی ایم آر نے خود فیلڈ میں جاکر گُآنگجھو وونڈفو بایوٹیک اور جُھہائی لیوزون کی اینٹی باڈی ٹیسٹ کٹس کا جا کر ٹیسٹ کیا اور پایا ہے کہ ان کے نتائج کافی مختلف ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) نے کہا ہے کہ کو کورونا ٹیسٹ میں استعمال کی جانے والی اینٹی باڈی کٹس کے نتائج میں کافی اختلافات دیکھے جا رہے ہیں۔ لہٰذا جن ریاستوں نے اپنی مانگ کی بنیاد پر اینٹی باڈی کٹس خریدی تھی وہ فوراً ان کا استعمال بند کر دیں۔ آئی سی ایم آر نے ریاستوں کو صلاح دی ہے کہ وہ اینٹی باڈی کٹس سپلائر کمپنیوں کو واپس کر دیں۔

آئی سی ایم آر کی جانب سے آج تمام ریاستوں کو بھیجی گئی ایک ایڈوائزری میں کہا گیا ہے اور آر ٹی پی سی آر کٹس گلے اور ناک کے اندر میوکس (سواب ٹیسٹ) ٹیسٹ کورونا کی شناخت کا سب سے بہتر طریقہ ہے، یہ وائرس کے بارے میں جلد پتہ لگا لیتا ہے، آئی سی ایم آر بھی اس کے استعمال کی حمایت کرتی ہیں اور اس کی بنیاد پر مشتبہ شخص کی جلد شناخت کرکے اسے آئیسولیشن میں بھیجا جا سکتا ہے۔

آئی سی ایم نے کہا ہے کہ کچھ ریاستوں نے اینٹی باڈی کا پتہ لگانے کے لیے اپنی مانگ کی بنیاد پر اینٹی باڈی ٹیسٹ کٹس خریدا ہے مگر واضح کیا جاتا ہے کہ یہ کٹس محض سرویلانس اور کورونا کے پھیلاؤ کے بارے میں معلومات دے سکتی ہیں کہ وہ کم ہو رہا ہے یا بڑھ رہا ہے۔

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ آئی سی ایم آر نے خود فیلڈ میں جاکر گُآنگجھو وونڈفو بایوٹیک اور جُھہائی لیوزون ڈائگروسٹِکس کی اینٹی باڈی ٹیسٹ کٹس کا جا کر ٹیسٹ کیا اور پایا ہے کہ ان کے نتائج کافی مختلف ہیں اور کئی ریاستوں نے شروع میں یہی مسئلہ ٹیسٹ کے دوران بھی اٹھایا تھا۔ اسے دیکھتے ہوئے تمام ریاستوں کو صلاح دی جاتی ہے کہ وہ ان کمپنیوں سے خریدی گئی اینٹی باڈی کٹس کا استعمال کرنا بند کریں اور انھیں سپلائر کمپنیوں کو لوٹا دیں۔

next