قومی

بی جے پی کے نشہ کو توڑنے کے لئے ہم متحد ہوئے: اکھیلیش

مایاوتی اور اکھیلیش نے نہ صرف سیٹوں کا اعلان کیا ہے بلکہ انہوں نے بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے عزم کا اظہار بھی کر دیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا

سید خرم رضا

مایاوتی اور اکھلیش یادو نے لکھنؤ میں مشترکہ پریس کانفرنس کر کے اپنے مقصد اور تیور دنوں واضح کر دیے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے صاف کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں مرکز میں بی جے پی کو اقتدار میں نہیں آنے دیں گے۔ اس موقع پر مایاوتی نے یہ بھی اعلان کیا کہ اس اتحاد میں کانگریس تو شامل نہیں ہے لیکن امیٹھی اور رائے بریلی سے اتحاد کا کوئی امیدوار نہیں اتارا جائے گا۔ سیٹوں کا اعلان کرتے ہوئے بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے بتایا کہ دونوں پارٹیوں ایس پی اور بی ایس پی نے دہلی میں 4 جنوری کو طے کر لیا تھا کہ وہ 38-38 سیٹوں پر چناؤ لڑیں گی جبکہ دو سیٹیں مستقبل میں دوسری پارٹی سے اتحاد کے لئے خالی چھوڑی گئی ہیں، اور باقی دو سیٹیں جہاں سے کانگریس کی اعلی قیادت لڑتی ہے، یعنی امیٹھی اور رائے بریلی سے اتحاد کوئی امیدوار نہیں اتارے گا۔

مایاوتی نے صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی نے لکھنؤ گیسٹ ہاؤس معاملہ کو پیچھے چھوڑ کر بی جے پی کو ہرانے کے لئے اتحاد کیا ہے اور ان کی کوشش رہے گی کہ بی جے پی کا کوئی بھی امیدوار نہ جیت پائے کیونکہ بی جے پی نے عوام پر بہت ظلم ڈھائے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے مائننگ معاملہ میں اکھلیش کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے کہا ’’4 جنوری کو دہلی میں ایس پی اور بی ایس پی کی سیٹوں کے بٹوارے کو لے کر میٹنگ ہوئی تھی اور اس کے فوراً بعد بی جے پی کی قیادت والی حکومت نے اکھلیش کے خلاف سی بی آئی کے ذریعہ مائننگ معاملہ پر کارروائی شروع کر دی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مرکزی حکومت سرکاری مشینری کا استعمال اپنے مخالفین کو ڈرانے کے لئے کر رہی ہے‘‘۔ مایاوتی نے کہا کہ رافیل بدعنوانی معاملہ بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کر دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ دونوں پارٹیا ں اپنے ووٹ ایک دوسرے کو کامیابی سے منتقل کر دیتی ہیں۔ دونوں رہنماؤ ں نے کہا کہ یہ اتحاد صرف لوک سبھا انتخابات تک نہیں ہے بلکہ یہ اتحاد آگے بھی چلے گا۔

سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے بی جے پی پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’اتر پردیش کے عوام پر بہت ظلم ہو رہا ہے ، ہر ادارے میں عوام سے کام سے پہلے اس کی ذات پوچھی جا رہی ہے جس کی وجہ سے پوری ریاست میں نفرت کا ماحول ہے ‘‘۔ اکھلیش یادو نے مزید کہا کہ ’’کسان اور بے روزگار نوجوان خود کشی کرنے پر مجبور ہیں اور حکومت گجرات کے تاجروں کے لئے بلیٹ ٹرین چلانے جا رہی ہے۔میں نے مایاوتی کے ساتھ اسی دن اتحاد کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا جس دن بی جے پی کے رہنماؤں نے مایاوتی کی بے عزتی کرنی شروع کی تھی ‘‘۔

پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کے اس سوال پر اکھلیش نے کوئی جواب نہیں دیا کہ کیا وہ کانگریس کو بد عنوان مانتے ہیں ۔ انہوں نے مایاوتی کو وزیر اعظم کے طور پرحمایت کرنے کے سوال پر بھی کوئی سیدھا جواب نہیں دیا اور کہا ’’آپ جانتے ہیں کہ میں کس کی حمایت کروں گا اور اتر پردیش نے ملک کو بہت وزیر اعظم دیے ہیں اور آگے بھی اتر پردیش کا ہی وزیر اعظم ہو گا۔‘‘