سونیا کی کامیاب ڈنر ڈپلومیسی: اچھی سمت میں اٹھایا گیا قدم: شرد پوار 

تاناشاہ حکومت بدل دیں گے: تیجسوی یادو

حزب اختلاف بی جے پی کی فتح کے سلسلہ کو روکنے کے لئے متحد ہو کر حکمت عملی تیار کر رہا ہے۔ یو پی اے کی چیئر پرسن سونیا گاندھی راہل گاندھی کو کانگریس پارٹی کی صدارت سونپ چکی ہیں اور اب اتحاد کو مضبوط بنانے میں مصروف ہیں۔ منگل کو انہوں نے 19 اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو عشائیہ کے لئے اپنے رہائش پر مدعو کیا۔

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سربراہ شرد پوار نے حزب اختلاف کو جوڑنے کی سونیا گاندھی کی کوششوں کو اچھی سمت میں اٹھایا گیا قدم قرار دیا۔ ادھر آر جے ڈی کی نمائندگی کرتے ہوئے لالو پرساد کے بیٹے تیجسوی یادو نے اس ڈنر کو دوستی کا ایک تیوہار بتاتے ہوئے کہا کہ اس وقت مرکز میں ایک تاناشاہ حکومت ہے اور تما م سیاسی پارٹیاں اس کو اکھاڑ پھینکنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا خود این ڈی اے کی اتحادی پارٹیاں بھی مرکز سے ناراض ہیں۔

اس موقع پر کانگریس صدر راہل گاندھی نے کہا کہ اس ڈنر پر مختلف سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں سے ملنے کا موقع ملا اور اس موقع پر پارٹیوں میں زبردست قربت محسوس ہوئی اور یہ اتحاد کی جانب ایک اچھی پہل ہے۔

کانگریس کے ترجمان تندیپ سرجیوالا کا بیان، ’’یو پی اے کی چیئر پرسن نے ایک سنجیدہ اور دوستانہ ڈنر کرایا۔ حکومت جہاں دیواروں کو کھڑا کرے گی تو ہم سب سے مل کر رہیں گے۔ حکومت پارلیمنٹ نہیں چلا رہی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ کسان، غریب، مزدور سبھی کے مسائل پر بحث ہو۔‘‘

عشائیہ میں ان جماعتوں کے رہنما شامل رہے

  1. سماجوی پارٹی، رام گپال یادو
  2. این سی پی، شرد پوار
  3. آر جے ڈی، تیجسوی یادو اور میسا بھارتی
  4. نیشنل کانفرنس، عمر عبداللہ
  5. جھارکھنڈ مکتی مورچہ، ہیمنت سورین
  6. سی پی آئی، ڈی راجا
  7. آر ایل ڈی، اجیت سنگھ
  8. سی پی ایم، محمد سلیم
  9. ڈی ایم کے، کنی موجھی
  10. بی ایس پی، ستیش چندر مشرا
  11. جے وی ایم، بابو لال مرانڈی
  12. آر ایس پی، پریم چندرن
  13. ہندوستانی عوامی مورچہ، جیتن رام مانجھی
  14. جے ڈی ایس، ڈاکٹر ریڈی
  15. اے آئی یو ڈی ایف، بدرالدین اجمل
  16. ٹی ایم سی، سدیپ بندوپادھیائے
  17. کیرالہ کانگریس پارٹی، جوش کے منی
  18. آئی یو ایم ایل، کٹی
  19. ہندوستان ٹرائبل پارٹی، شرید یادو
  20. کانگریس، راہل گاندھی، سونیا گاندھی، مالکارجن کھڑگے، غلام نبی آزاد، منموہن سنگھ، اے کے اینٹونی، رندیپ سرجے والا، احمد پٹیل وغیرہ۔

عشائیہ کی تصویری جھلکیاں

 
تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی

تمام 19 جماعتوں کے رہنما پہنچے

سونیا نے جو ڈنر ڈپلومیسی کی حکمت عملی اختیار کی تھی اس میں کامیابی حاصل کر لی ہے کیوں کہ تمام حزب اختلاف کے رہنما عشائیہ میں پہنچ چکے ہیں۔

تصور کیا جا رہا ہے کہ اس عشائیہ کے بعد 2019 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد ہونے سے تقویت حاصل ہو سکتی ہے۔ یو پی اے کی چیئرپرسن سونیا گاندھی پہلے ہی حزب اختلاف کی تمام جماعتوں سے اختلافات کو بھولا کر ایک ساتھ آنے کی اپیل کر چکی ہیں۔

18 اپوزیشن پارٹیوں کے رہنما عشائیہ میں موجود

اطلاعات کے مطابق جے ایم ایم (جھارکھنڈ مکتی مورچہ) کے ہیمنت سورین کو چھوڑ کر 18 پارٹیوں کے رہنما اور شرد یادو سونیا گاندھی کی رہائش پر عشائیہ کے لئے پہنچ چکے ہیں۔

متعدد اپوزیشن رہنما 10 جن پتھ پہنچے

۔ آر ایس پی کے این کے پریم چندرن، جے ڈی ایس کے اوپیندر ریڈی، کیرالہ کانگریس کے جوش کے منی بھی عشائیہ کے لئے پہنچ چکے ہیں۔

۔ ڈنر میں شامل ہونے کے لئے شرد پوان پہنچے۔

۔ ہندوستانی عوام مورچہ کے جیتن رام مانجھی، ایس پی کے رام گوپال یادو، ڈی ایم کے کی کنی موجھی، لیفٹ پارٹیوں کی طرف سے محمد سلیم، ڈی راجا اور جے وی ایم کے بابو لال مرانڈی پہنچ چکے ہیں۔

۔ آر جے ڈی کی میسا بھارتی، اور آئی یو ایم ایل کی کنجی آلی کٹی بھی پہنچ چکی ہیں۔

۔ ٹی ایم سی کے سدیپ بندو پادھیائے، آر ایل ڈی سے اجیت سنگھ پہنچ چکے ہیں۔

۔ ڈنر میں کانگریس کے رہنما ملکارجن کھڑکے، رندیپ سرجے والا اور احمد پٹیل کے علاوہ غلام نبی آزاد بھی موجود ہیں۔

اپوزیشن رہنماؤں کے پہنچنے کا سلسلہ شروع

یو پی اے چیئر پرسن سونیا گاندھی کی رہائش پر اپوزیشن رہنماؤں کا عشائیہ میں پہنچنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ آر جے ڈی کے تیجسوی یادو، اے آئی یو ڈی ایف کے بدرالدین اجمل اور نیشنل کانفرنس کے فاروق عبداللہ 10، جن پتھ پہنچ چکے ہین۔

اختلافات بھول کر سب ساتھ آئیں: سونیا گاندھی

یو پی اے کی چیئر پرسن سونیا گاندھی نے سال 2019 کے عام انتخابات سے قبل بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کے خلاف وسیع محاذ تیار کرنے کے ارادے سے کارروائی تیز کر دی ہے اور حزب اختلاف کی 19 جماعتوں کے رہنماؤں کو ڈنر (عشائیہ) پر مدعو کیا ہے۔

کانگریس ذرائع کے مطابق آندھرا پردیش کی حکمراں تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی)، بیجو جنتا دل اور ٹی آر ایس کے لیڈروں کو دعوت نہیں دی گئی ہے۔ ٹی ڈی پی نے حال ہی میں نریندر مودی حکومت سے اپنے وزراء کو ہٹا لیا ہے۔ تاہم وہ ابھی تک این ڈی اے کا حصہ ہیں۔ بی جے ڈی اور ٹی آر ایس کی بالترتیب اڈیشہ اور تلنگانہ میں حکمرانی ہے۔

19 پارٹیوں کے شامل ہونے کی امید

  • رام گپال یادو، سماجوی پارٹی
  • بدر الدین اجمل،اے آئی یو ڈی ایف
  • پرفل پٹیل، شرد پوار ، این سی پی
  • میسا بھارتی، جے پی یادو، آر جے ڈی
  • فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ،جے کے این سی
  • ہیمنت سورین، جی ایم ایم
  • اجیت سنگھ، جینت سنگھ، آر ایل ڈی
  • ڈی راجا، سی پی آئی
  • ستارام یچوری ، محمد سلیم، سی پی آئی ایم
  • کنی موجھی ، ڈی ایم کے
  • انڈین یونین مسلم لیگ
  • ستیش چندر مشرا ، بی ایس ایس
  • کیرالہ کانگریس پارٹی
  • بابو لال مرانڈی، جھارکھنڈ مکتی مورچہ
  • پریم چندرن،آر ایس پی
  • شرید یادو
  • ڈیریک او برائن، سدیپ بندوپادھیائے، ٹی ایم سی
  • جیتن رام مانجھی
  • ایچ ڈی ڈیوگوڈا

سال 2004 کے عام انتخابات میں کانگریس نے یکساں ذہنیت کی جماعتوں کو ایک ساتھ لاکر یو پی اے تشکیل دیا تھا اور صوبائی سطح پر اتحاد کر کے بی جے پی کی قیادت والے این ڈی ڈی اے کو ہرایا تھا۔

سب سے زیادہ مقبول