قومی

اب شیو سینا لیڈر سنجے راؤت کے بگڑے بول، کہا ’بھاڑ میں گیا قانون‘

سنجے راؤت نے ایک عوامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو بات ہمارے من میں ہے، دل میں ہے اسے تو بتانا ہی چاہیے۔ اگر ہم کوئی بات اپنے من سے باہر نہ نکالیں تو گھٹن سی ہوتی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے میں شامل شیو سینا لیڈر سنجے راؤت نے ہندوستانی قانون اور انتخابی ضابطہ اخلاق کے خلاف انتہائی قابل اعتراض بیان ایک عوامی تقریب کے دوران دیا۔ انھوں نے قانون اور انتخابی ضابطہ اخلاق کو سرے سے خارج کر دیا ہے اور اپنے دل کی ہر بات کھل کر کہنے کو ترجیح دی ہے۔ ایک عوامی تقریب کے دوران انھوں نے واضح لفظوں میں کہہ دیا کہ ’’اگر ہمیں بار بار یاد دلایا گیا کہ قانون ہے، انتخابی ضابطہ اخلاق ہے... تو بھاڑ میں گیا قانون... انتخابی ضابطہ اخلاق کو بھی ہم دیکھ لیں گے۔‘‘

سنجے راؤت نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’انتخاب کا ماحول ہے، ہمیں بار بار یہ یاد دلایا جاتا ہے کہ انتخابی ضابطہ اخلاق ہے، انتخابی ضابطہ اخلاق ہے... تو میرے ذہن میں ایک خوف ہمیشہ رہتا ہے کہ انتخابی ضابطہ اخلاق ہے۔ یہ تو ہم قانون کے ماننے والے لوگ ہیں، لیکن جو بات ہمارے من میں ہے، دل میں ہے اسے تو بتانا ہی چاہیے۔ اگر ہم کوئی بات اپنے من سے باہر نہ نکالیں تو گھٹن سی ہوتی ہے۔‘‘

دراصل سنجے راؤت مہاراشٹر کے میرا-بھایندر کے ایک جلسہ سے خطاب کر رہے تھے۔ ایسا پہلی بار نہیں ہے کہ سنجے راؤت کا نام تنازعہ میں آیا ہے، لیکن اس بار انھوں نے قانون اور انتخابی ضابطہ اخلاق کو ہی ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ راؤت کو انتخابی کمیشن کی جانب سے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے لیے نوٹس بھی جاری کیا گیا تھا۔ یہ نوٹس شیوسینا کے ترجمان ’سامنا‘ میں لکھے ایک ادارتی مضمون کے لیے بھیجا گیا تھا۔

معاملہ کچھ یوں ہے کہ راؤت کا کہنا تھا کہ بی جے پی کو بہار میں بیگوسرائے سے بایاں محاذ کے امیدوار کنہیا کمار کی شکست کو یقینی بنانا چاہیے بھلے یہ ای وی ایم میں چھیڑ چھاڑ کے ذریعہ ہی کیوں نہ ہو۔ دراصل جے این یو کے سابق اسٹوڈنٹ یونین صدر کے خلاف بی جے پی لیڈر گری راج سنگھ انتخاب لڑ رہے ہیں۔ اپنے مضمون میں سنجے راؤت نے کنہیا کمار کو زہر کی بوتل بتایا تھا۔ انھوں نے لکھا تھا کہ جیل کی لڑائی کو پارلیمنٹ تک نہیں پہنچنا چاہیے۔ اس کے بعد انتخابی کمیشن نے ان سے ان کے بیان پر صفائی مانگی تھی۔ نوٹس پر راؤت نے کہا تھا کہ وہ کمیشن کو اس بارے میں اپنی وضاحت دیں گے۔