کورونا سے نجات و قومی سلامتی کی دعا کے ساتھ شیخ سلیم چشتی کا سالانہ عرس اختتام پذیر

28 رمضان المبارک کو میلاد شریف میں سجادہ نشین کی رہائش گاہ پر صرف پانچ لوگ موجود تھے۔ 29 رمضان المبارک کو قل کی رسم صبح تین بجے درگاہ پر ادا کی گئی جس کے ساتھ عرس اپنے اختتام کو پہنچا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

فتح پور سیکری: حضرت شیخ سلیم چشتی کا 450 واں عرس مبارک کورونا سے نجات و قومی سلامتی کی دعا کے ساتھ 29 رمضان المبارک کو قل کی رسم ادائے گی پر اختتام پذیر ہوا۔ رمضان المبارک کے جمعة الوادع کی نماز کے بعد سے اعتکاف میں بیٹھنے کی رسم اس بار ولی عہد سجادہ نشین و جانشین ارشد فریدی نے ادا کی۔

اس کے بعد عصر کی نماز کے بعد مجلس کا اہتمام کیا گیا جس میں لاک ڈاون و سوشل۔ ڈسٹینسنگ کا خاص خیال رکھا گیا۔ عرس میں میلا د شریف، نعتیہ جلسہ، محفل سماع، افطار جیسے کوئی بھی پروگرام لاک ڈاون کی وجہ سے منعقد نہیں کیے گئے۔

28 رمضان المبارک کو میلاد شریف میں سجادہ نشین کی رہائش گاہ پانچ لوگ موجود تھے۔ 29 رمضان المبارک کو قل کی رسم صبح تین بجے درگاہ پر ادا کی گئی جس کے ساتھ عرس اپنے اختتام کو پہنچا۔ عرس کی تمام رسموں میں سجادہ نشین پیرزادہ عیاض الدین چشتی عرف رئیس میاں، جانشین ارشد فریدی، پیرزادہ سیف میاں اور دوسرے موجود رہے۔

سجادہ نشین پیرزادہ عیاض الدین چشتی عرف رئیس میاں نے بتایا کہ انہوں نے مسجد نبوی میں امامت کی ہے وہاں آپ کو لو گ شیخ ہندی کے نام سے بلاتے تھے۔ بغداد میں حضرت غوث اعظم سے انہیں تبرکات ملے جس سے اس وقت کے سجادہ نشین صاحب کو بشارت ہوِئی تھی کہ سلیم چشتی کا تحفہ ان کو دیا جائے۔ جس کی زیارت آج تک ان کے عرس کے پہلے روز کرائی جاتی ہے۔ اس کے بعد آپ بابا فرید رح کے دربار میں گئے جن کے وہ نبیرہ بھی ہیں۔ وہاں سے بھی ان کو تبرکات ملے۔

عرس کا آغاز روایتی شان و شوکت کے ساتھ 14مئی کو ہوا تھا۔ جس میں درگاہ کے سجادہ نشین پیرزادہ عیاض الدین چشتی عرف رئیس میاں نے ملک میں امن، قومی سلامتی اور کورونا وائرس جیسی وبا سے نجات کے لئے دعا کی تھی۔

    Published: 23 May 2020, 9:40 PM