میں اگلا الیکشن آر جے ڈی یا کانگریس سے لڑوں گا: شترو گھن سنہا

کانگریس اور آر جے ڈی نے نہ صرف شترو گھن سنہا کے اس بیان کا استقبال کیا ہے بلکہ دونوں نے ان کو اپنا امیدوار بنانے کا اشارہ بھی دیا ہے۔

بی جے پی میں رہتے ہوئے مودی کے خلاف سخت رخ اختیار کرنے والے معروف بالی وڈ و اداکار شترو گھن سنہا نے اپنے کل کے بیان سے سیاسی گلیاروں میں ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ کل پٹنہ میں آر جے ڈی کی افطار پارٹی میں شرکت کے دوران شترو گھن سنہا نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ سال ہونے والے لوک سبھا انتخابات پٹنہ صاحب سیٹ سے کانگریس اور آر جے ڈی اتحاد کے ٹکٹ پر چناؤ لڑیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ دونوں پارٹی سے چناؤ لڑ سکتے ہیں۔ کانگریس اور آر جے ڈی نے نہ صرف شترو گھن سنہا کے اس بیان کا استقبال کیا ہے بلکہ دونوں نے ان کو اپنا امیدوار بنانے کا اشارہ بھی دیا ہے۔

آر جے ڈی کے سینئر رہنما نے کہا ’’ابھی تک شترو گھن سنہا نے کوئی فیصلہ نہیں لیا اس لئے ابھی اس پر کیا رد عمل دیا جائےـ۔آر جے ڈی کے سینئر رہنما منوج جھا نے کہا کہ شترو گھن سنہا بہار کے ہر دل عزیز رہنما ہیں اور ان کے لئے ہماری پارٹی میں ایک قدرتی جگہ موجود ہے۔ ہمیں شترو گھن سنہا کو سیاسی شخصیت کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ وہ ایک بڑی شخصیت ہیں ، ان کے اور لالو جی کے گھر والوں کے ساتھ اچھے رشتے ہیں۔ اے آئی سی سی کی جانب سے بہار کے لئے کانگریس کے انچارج شکتی سنگھ گوہل نے تھوڑے محتاط انداز میں اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی شخص جو کانگریس کے نظریہ سے اتفاق کرے اور اس پر عمل کرے تو اس کا پارٹی میں استقبال ہے۔گوہل نے کہا کے بی جے پی کے سینئر رہنما جیسے اڈوانی، جوشی اور سنہا جنہوں نے پارٹی کو خون پسینے سے سینچا اور ان کی جس طرح پارٹی میں بے عزتی کی گئی ہے اس کے بعد کوئی بھی عزت رکھنے والا شخص بی جے پی میں نہیں رہ سکتا۔

شترو گھن سنہا جو بہار میں بہت مقبول ہیں اور واجپئی حکومت میں مرکزی وزیر تھے وہ دو مرتبہ پٹنہ صاحب کی لوک سبھا سیٹ سے چناؤ جیت چکے ہیں۔ لیکن مودی کے اقدار میں آنے کے بعد وہ بی جے پی سے سخت ناراض ہیں اور مستقل حکومت کے خلاف بیان دیتے رہے ہیں ۔ وہ سابق وزیر خزانہ یشونت سنہا کے قریبی جانے جاتے ہیں۔ واضح رہے یشونت سنہا نے چند ماہ پہلے بی جے پی چھوڑ دی تھی۔

سب سے زیادہ مقبول