شاہین باغ: مظاہرین نے رکھے 7 مطالبات، بات چیت چوتھے روز بھی بے نتیجہ

صبح کے 10.30 بجے شاہین باغ پہنچنے والی سادھنا رام چندرن نے کہا، ’’اگر راستہ نہ کھلا تو ہم آپ کی مدد نہیں کرسکیں گے۔ ہم احتجاج ختم کرنے کے لئے نہیں کہہ رہے ہیں۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: شاہین باغ میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کے ساتھ سپریم کورٹ کی مقرر کردہ مذاکرات کار سادھنا رام چندرن سنیچر کے روز لگاتار چوتھے دن بات چیت کے لئے پہنچیں لیکن بات چیت سے ہنوز کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔

سادھنا رام چندرن نے چوتھے دن بھی مظاہرین کو راستہ کھولنے پر راضی کرنے کی کوشش کی، تاہم مظاہرین نے مذاکرات کار کے سامنے سات مطالبات رکھے اور کہا کہ جب تک سی اے اے کو واپس نہیں لیا جاتا اس وقت تک راستے کو خالی نہیں کیا جائے گا۔

صبح کے 10.30 بجے شاہین باغ پہنچنے والی سادھنا رام چندرن نے کہا، ’’اگر راستہ نہ کھلا تو ہم آپ کی مدد نہیں کرسکیں گے۔ ہم احتجاج ختم کرنے کے لئے نہیں کہہ رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’میں یہاں حکومت کی طرف سے نہیں آئی ہوں۔ ہم سپریم کورٹ سے کہیں گے کہ آپ کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ آپ کو ایک پارک دے دیا جائے گا جہاں آپ احتجاج جاری رکھ سکتے ہیں۔‘‘

تاہم، مذاکرات کار کی اس بات کو تمام مظاہرین نے یکسر مسترد کر دیا اور ان کے سامنے سات مطالبات رکھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا، ’’ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر آدھی سڑک کھل جاتی ہے تو سیکورٹی کے لئے ایلومینیم شیٹوں کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ شاہین باغ کے لوگوں اور جامعہ کے طلبا کے خلاف درج مقدمات کو بھی واپس لیا جانا چاہیے۔‘‘

مظاہرین نے مزید مطالبہ کیا، ’’قومی آبادی رجسٹر (این پی آر) پر عمل درآمد نہیں کیا جانا چاہیے۔ مرکزی وزراء کے متنازعہ بیانات پر کارروائی کی جانی چاہیے۔ احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو معاوضہ دیا جائے اور زخمی ہونے والے افراد کے علاج و معالجے کے اخراجات حکومت برداشت کرے۔ ہمیں دہلی پولیس پر اعتماد نہیں ہے، سپریم کورٹ ہماری حفاظت کے بارے میں یقین دہانی کرائے۔‘‘

احتجاج کے مقام سے نکلتے ہوئے مذاکرات کار سادھنا نے نامہ نگاروں سے کہا، ’’یہاں ہوئی بات چیت کے بارے میں وکیل سنجے ہیگڑے سے میں بات کروں گی۔ ظاہر ہے 70 دنوں سے سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاج جاری ہے اور جس انداز میں احتجاج ہو رہا ہے اس کے آس پاس کے لوگوں کو پریشانی ہو رہی ہے۔‘‘