شاہ زادہ پارٹ-2: شاہ کے بیٹے نے باپ کی جائداد پر لیا قرض، باپ نے چھپائی جانکاری 

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش

کانگریس کا کہنا ہے کہ جس طرح سے بی جے پی صدر امت شاہ کے بیٹے جے شاہ کی کمپنی کھیل کھیل رہی ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ سب لوگ ملے ہوئے ہیں۔ نریندر مودی بھی اس بات سے انجان نہیں لیکن وہ خاموش ہیں۔

کانگریس نے پریس کانفرنس کر آج (11 اگست) امت شاہ پر ایک نئے معاملے میں غلط بیانی اور اپنے بیٹے کی کمپنی کو ’زمین سے آسمان‘ تک لے جانے میں مدد پہنچانے کا الزام عائد کیا۔ کچھ مہینے پہلے بی جے پی صدر امت شاہ کے بیٹے جے امت شاہ کی کمپنی ’ٹیمپل انٹرپرائزیز‘ سے متعلق کانگریس نے انکشاف کیا تھا اور بتایا تھا کہ 2012 سے دو سال کے خسارے کے بعد تیسرے سال میں اس کمپنی نے 50 ہزار روپے کا کاروبار کیا تھا جو چوتھے سال میں بڑھ کر حیرت انگیز طور پر 81 کروڑ کا ہو گیا اور پانچویں سال میں ’ٹیمپل انٹرپرائزیز‘ بند ہو گیا۔ اَب کانگریس نے جے شاہ کی دوسری کمپنی ’کسم فنگسرو‘ سے متعلق کئی انکشافات کیے ہیں جو امت شاہ ہی نہیں، وزیر اعظم نریندر مودی، پیوش گویل تک کو کٹہرے میں کھڑا کر رہی ہے۔

آج پریس کانفرنس میں کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے کہا کہ ’’کچھ مہینے قبل ایک سیریل ریلیز ہوا تھا جس کا نام ’ٹیمپل انٹراپرائزیز‘ تھا اور اس کے فلمساز نریندر مودی جی، ہدایت کار امت شاہ جی اور ویلن امت شاہ کے بیٹے جے امت شاہ تھے، اور اب اسی سیریل کا دوسرا پارٹ ریلیز ہوا ہے جس کا نام ہے ’کسم فنسروس‘ جو فنانشیل سروسز کا مخفف ہے اور اس کے مالک جے امت شاہ و ان کی بیگم ہیں۔‘‘ اس کمپنی کے بارے میں انکشاف کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’’اس کمپنی کی کل مالیت 6 کروڑ روپے ہے اور حیرانی کی بات ہے کہ کسم فنسروس نے الگ الگ بینکوں سے 95 کروڑ روپے قرض حاصل کیا ہے۔ کمپنی نے قرض لیتے وقت احمد آباد واقع زمین کے دو پلاٹ اور ایک کمرشیل بلڈنگ گروی رکھی۔ یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ گروی رکھی گئی زمین کے مالک جے شاہ نہیں، بی جے پی صدر امت شاہ ہیں۔‘‘

اس انکشاف کے بعد کانگریس نے امت شاہ پر راجیہ سبھا انتخاب کے وقت جھوٹا حلف نامہ پیش کیے جانے کا الزام عائد کیا۔ جے رام رمیش نے 24 جولائی 2017 کو امت شاہ کے ذریعہ الیکشن ایفی ڈیوٹ کی کاپی دکھاتے ہوئے کہا کہ ’’اس ایفی ڈیوٹ میں ایک سوال ہے جہاں پوچھا گیا ہے کہ بینکوں سے آپ نے کوئی پیسہ لیا ہے؟ کیا آپ کا بینکوں کے پاس کچھ باقی ہے، کیا کچھ دینداری ہے۔ اور اگر ہے تواس کی تفصیل دیجیے۔ چونکہ امت شاہ کی زمین پر ان کے بیٹے نے 95 کروڑ روپے کا قرض بینکوں سے لیا ہے تو یہ دینداری امت شاہ کی بنتی ہے جس کا تذکرہ انھیں ایفی ڈیوٹ میں کرنا چاہیے تھا، لیکن انھوں نے جھوٹا حلف نامہ پیش کرتے ہوئے کسی بھی دینداری سے صاف انکار کر دیا۔‘‘ انھوں نے اس سلسلے میں امت شاہ سے سوال کیا کہ آخر انھوں نے انتخابی حلف نامہ میں یہ جانکاری کیوں نہیں دی؟۔

کانگریس نے کمپنی سے متعلق جانکاری دیتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ سال مئی ماہ میں کسم فنسروس کو گجرات حکومت کے ادارہ جی آئی ڈی سی (گجرات انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن) ایک زمین لیز پر دیتی ہے جس کی قیمت 6 کروڑ روپے ہے، اور اس میں کوئی برائی بھی نہیں ہے۔ لیکن ایک مہینے کے اندر اس زمین کو دکھا کر کمپنی ایک پرائیویٹ بینک سے 17 کروڑ روپے قرض لیتی ہے جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ جے رام رمیش کا کہنا ہے کہ ’’ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ گجرات حکومت نے یہ زمین امت شاہ کے بیٹے کو اس لیے لیز پر دی تاکہ وہ 17 کروڑ روپے کا قرض لے سکیں۔ آخر یہ کیسے ہوا؟ کیوں ہوا؟ یہ میرا دوسرا سوال ہے۔‘‘

جے رام رمیش نے فوراً ہی کمپنی پر ایک تیسرا سوال بھی داغا اور کہا کہ کمپنیز ایکٹ کے مطابق کسم فنسروس کو ہر سال اپنی سالانہ رپورٹ حکومت کو پیش کرنی چاہیے لیکن اس نے آج تک 17-2016 کی سالانہ رپورٹ کیوں جمع نہیں کی؟ انھوں نے کہا کہ ’’سالانہ رپورٹ جمع نہیں کرنا جرم ہے، قانون کے خلاف اور اس پر کارروائی ہونی چاہیے تھی جو نہیں ہوئی۔‘‘ جے رام رمیش نے کسم فنسروس کو مرکزی وزارت برائے توانائی کے ماتحت ادارہ آئی آر ای ڈی اے (انڈین رینویبل انرجی ڈیولپمنٹ ایجنسی لمیٹڈ) کے ذریعہ دیے گئے قرض پر بھی سوال اٹھایا۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’گزشتہ سال آئی آر ای ڈی اے نے اس کمپنی کو تقریباً ساڑھے دس کروڑ روپے قرض دیا اور ایسا اس نے رتلام میں ہوائی توانائی (Wind Energy) سے متعلق کام کرنے کے لیے دیا اور اس وقت مرکزی وزیر توانائی پیوش گویل تھے۔ سوال یہ ہے کہ کسم فنسروس کے پاس اس سیکٹر میں کوئی تجربہ نہیں ہے پھر ساڑھے دس کروڑ روپے کس طرح دیئے گئے؟‘‘

جے رام رمیش کہتے ہیں کہ آئی آر ای ڈی اے کے ذریعہ ساڑھے دس کروڑ روپے قرض دینا اس لیے بھی ضابطہ کے خلاف ہے کیونکہ کمپنی نے اب تک جو سالانہ رپورٹ پیش کی ہے اس میں وہ خسارہ میں نظر آئی ہے گویا کہ وہ ایک اسٹارٹ اَپ کمپنی ہے جس کو 5 کروڑ تک ہی قرض دیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہاں ضابطوں کی کوئی پروا نہیں کی گئی کیونکہ جے شاہ تو امت شاہ کے بیٹے ہیں اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی، کوئی سوال نہیں اٹھائے گا۔

پریس کانفرنس کے دوران جے رام رمیش نے یہ بھی انکشاف کیا کہ جس کوآپریٹو بینک سے جے امت شاہ کو قرض ملا ہے اس میں گجرات بی جے پی کے لیڈر نتن پٹیل رکن ہیں۔ جس طرح سے جے شاہ کی کمپنی کھیل کھیل رہی ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ سب لوگ ملے ہیں۔ یہ سب ایک جال ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’میں نہیں مانتا کہ اس کی جانکاری امت شاہ کو یا وزیر اعظم کو نہیں ہے۔ ملک کے عوام جاننا چاہتی ہے کہ امت شاہ نے انتخابی حلف نامہ میں جھوٹ کیوں بولا، عوام جاننا چاہتی ہے کہ کسم فنسروس کا راز کیا ہے، اور عوام جاننا چاہتی ہے کہ کس بنیاد پر آئی آر ای ڈی اے، پرائیویٹ بینک اور کو آپریٹو بینک ہر سال جے شاہ کو قرض دیتی رہی۔ سوال یہ بھی ہے کہ کس بنیاد پر گجرات حکومت نے جے امت شاہ کو سانند میں زمین کا لیز دیا جس کے ذریعہ اس کو بینکوں سے 17 کروڑ روپے قرض حاصل ہوا۔‘‘

کانگریس کا کہنا ہے کہ ’ٹیمپل انٹرپرائزیز‘ کے بعد ’کسم فنسروس‘ سیریل کا دوسرا ایپی سوڈ ہے اور یہ سیریل چلتا رہے گا۔ قانون کی کھلے عام خلاف ورزی ہو رہی ہے، بے ضابطگیاں ہو رہی ہیں لیکن کوئی کارروائی کرنے والا نہیں۔ جو لوگ ایمانداری کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں اور جو کہتے ہیں کہ ’نہ کھاؤں گا اور نہ کھانے دوں گا‘ وہ کھڑے ہو کر کسم فنسروس کا راز بتائیں اور یہ بھی بتائیں کہ کیوں کسم فنسروس پر کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی؟

سب سے زیادہ مقبول