سوشل میڈیا پر اے ایم یو کے طلباء کے درمیان فرقہ پرست بحث نے لیا سیاسی رنگ

غیر مسلم طالبہ کو پیتل کا حجاب پہنانے کا میسج وائرل ہونے کے بعد طالب علم کے خلاف پولس میں رپورٹدرج۔مسلم یونیورسٹی کی جانچ بھی شروع

تصویر Getty Images
تصویر Getty Images
user

ابو ہریرہ

علی گڑھ: گذشتہ 4 ماہ کی مدت سے مسلم یونیورسٹی میں تعلیمی سلسلہ مکمل طور پر بند ہے لیکن اس سب کے با وجود سوشل میڈیا کے ذریعہ انجینئرنگ کالج کے ایک طالبہ و طالب علم کے درمیان آپسی بحث کے درمیان آنے جانے والے میسیج نہ صرف سرخیاں بن گئے بکلہ اس ادارے کے لئے بدنامی کا سبب بھی بنے ہوئے ہیں۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق مسلم یونورسٹی کے انجینیئرنگ کالج میں زیر تعلیم بی ٹیک کی طالبہ نے لاک ڈائون دوران سوشل میدیا پر سوال اٹھائے تھے کہ مسلم یونیورسٹی کیرہائشی ہاسٹل میںطالبات کو قید میں کھا جاتا ہے انہیں آزادی حاصل نہیں ہے جیسی کہ ہونی چاہئے۔اس میسیج کے وائرل کو دیکھنے کے بعد طالبہ کے ہی کالج کے طالب علم رہبر دانش نے طالبہ کو جواب دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ آپکو بھی یونیورسٹی کی روایات پر عمل کرنا چاہئے اور یونیورسٹی میں جب تعلیمی سرگرمیاں شروع ہونگی تب آپکو بھی حجاب پہننا ہوگا آپکے لئے پیتل کا حجاب بنوایا جائیگا ۔

اپنے ہی کالج کے ساتھی کے میسیج سے ناراض ہوکر طالبہ نے ایس یاس پی نمیراج سے شکایت کرتے ہوئے اپنی جان کو خطرا بتاتاے ہوئے آئی ٹی ایکٹ سمیت متعدد دفعات میں مقدمہ درج کرا دیا ہے۔بی جے پی سمیت تمام شدت پسند تنظیموں نے یونیورسٹی کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔

مسلم یونیورسٹی کے پراکٹر پروفیسر وسیم علی نے قومی آواز کو بتایا کہ یہ واقعہ یونیورسٹی سے متعلق نہیں ہے لیکن دونوں طالب علم ایک ہی کالج کے ضرور ہیں یہ سوشل میڈیا کا مسئلہ ہے لیکن مسلم یونیورسٹی کی جانب سے اس کے با وجودتین ممبران پر مشتمل ایک جانچ کمیٹی کی تشکیل کی ہے جو جلد ہی رپورٹ پیش کریگی۔

پراکٹر پروفیسر وسیم علی نے بتایا کہ طالبہ کی والدہ کی جانب سے کئی مرتبہ فون آ چکا ہے جو کسی بھی طرح کی کاروائی نہیں چاہتی ہیں لیکن اس سب کے بعد بھی جانچ کی جائیگی اور قصوروار کے خلاف یونیورسٹی قانون کے مطابق کاروائی کی جائیگی۔فی الحال یونیورسٹی میں تعلیی سرگرمیاں بند ہیںاورطالبہ کو سوشل میڈیا پر میسیج کرکے اس طرح یونیورسٹی کا نام بدنام کرنے طالب علم رہبر دانش کا ای۔میل میسج بھی موصول ہوا ہے جسمیں اس نے اس پورے معاملہ پر طالبہ و دیگر سے معافی طلب کی ہے اس ای۔ میل میسج کی بھی سائبر ایکسپرٹ سے جانچ کرائی جا ئیگی۔

    Published: 16 Jul 2020, 8:11 PM
    next