اتر پردیش میں طبی سامان کی خریداری میں گھپلے کا الزام

سنجے سنگھ نے کہا کہ بچوں کی جانوں سے کھیلنے والے ایسے بدعنوان لوگوں کی جگہ وزارت اور سکریٹریٹ میں نہیں ، بلکہ جیل میں ہے۔

سنجے سنگھ کی فائل تصویر آئی اے این ایس
سنجے سنگھ کی فائل تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

کورونا کی تیسری لہر کے خلاف حفاظت کے لئے اترپردیش کے لئے تعمیر کیے جارہے خصوصی وارڈوں کے لئے طبی سامان کی خریداری میں گھپلے کا الزام عائد کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی (عآپ) کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ کی جانب سے بدھ کے روز وزیر سریش کھنہ ، پرنسپل سکریٹری آلوک کمار سمیت متعدد ڈاکٹروں کے خلاف حضرت گنج کوتوالی میں شکایت درج کروائی گئی ہے۔

مسٹر سنگھ نے کہا کہ بچوں کی جانوں سے کھیلنے والے ایسے بدعنوان لوگوں کی جگہ وزارت اور سکریٹریٹ میں نہیں ، بلکہ جیل میں ہے۔ اگر تحریر پر مقدمہ درج نہیں ہوتا ہے ، تو عدالت جائیں گی۔ نئی حکومت کے آتے ہی لوگوں کی جانوں سے کھیلنے والے یہ سارے کرپٹ لوگ جیل میں ہوں گے۔


انہوں نے کہا کہ اترپردیش میں تیسری لہر کے خوف کے نام پر میڈیکل ڈیپارٹمنٹ میں بڑے پیمانے پر گھپلہ ہوا ہے۔ بچوں کے وینٹی لیٹر سمیت تمام طبی سامان خریدنے کے نام پر سنجے سنگھ نے اس گھپلے سے متعلق تمام کاغذات سامنے رکھے ہیں جو وینٹیلیٹر اترپردیش کے کے جی ایم یو میں 10 لاکھ میں خریدا جارہا ہے ، اسی کومیڈیکل کالجوں میں اتر پردیش کی حکومت ، 27 ، 22 یا 37 لاکھ وغیرہ من مانی قیمتوں پر خرید رہی ہے۔ اترپردیش کی حکومت تمام مانیٹرس وغیرہ آلات خرید رہی ہے جو بازار میں سستے داموں 2 گنا ، 3 بار ، 4 گنا مہنگے داموں پر دستیاب ہیں۔

مسَٹر سنگھ نے کہا کہ وزیر سریش کھنہ خود ہی اس بدعنوانی کے حق میں بیان دے رہے ہیں کہ ایسا کچھ نہیں ہوا جبکہ ، کاغذات چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ کوئی گھپلہ ہوا ہے۔ تمام میڈیکل کالجوں کے پرنسپلز نے مہنگی قیمتوں پر خریداری کی ہے۔ ایس جی پی جی آئی ، لوہیا انسٹی ٹیوٹ میں بھی بہت زیادہ قیمتوں پر خریداری کی گئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔