’منترالے‘ کی چھٹی منزل پر اتر گیا ہمارا ’سورج یان‘ مذاق اڑانے والے دیکھتے رہ گئے: سنجے راؤت

دیویندر فڑنویس کے ذریعہ وزیر اعلیٰ عہدہ سے استعفیٰ دینے کے بعد شیوسینا ترجمان سنجے راؤت نے تو ان پر طنز کے تیر چلائے ہی، ’سامنا‘ میں بھی بی جے پی کو زبردست طریقے سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

مہاراشٹر میں بی جے پی حکومت گرنے کے بعد شیوسینا لیڈر سنجے راؤت نے بی جے پی پر زبردست طریقے سے طنز کے تیر چلائے ہیں۔ سنجے راؤت نے اپنے پرانے بیانات کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے کہا تھا کہ آپ کو یاد ہوگا، ہمارا ’سورج یان‘ منترالے کی چھٹی منزل پر بحفاظت لینڈ کرے گا۔ تب لوگ مجھ پر ہنس رہے تھے۔ لیکن اب ہمارا ’سورج یان‘ بالکل خیریت کے ساتھ منترالے کی چھٹی منزل پر لینڈ کر گیا ہے۔ یہ ’سورج یان‘ اگر آنے والے وقت میں دہلی میں بھی اترے تو آپ کو حیرانی نہیں ہوگی۔‘‘

اس سے قبل شیوسینا نے اپنے ترجمان ’سامنا‘ میں بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ شیوسینا نے لکھا ہے کہ سبھی کی شیخی ہوا میں اڑ گئی ہے۔ آخر کار دیویندر فڑنویس کی لمحہ بھر کی حکومت فلور ٹسٹ سے پہلے ہی گر گئی۔ شیوسینا نے سامنا میں یہ بھی لکھا کہ ’’جن اجیت پوار کی حمایت سے فڑنویس نے حکومت بنانے کا دعویٰ کیا، انھوں نے پہلے ہی نائب وزیر اعلیٰ عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ اجیت پوار کے ساتھ دو اراکین اسمبلی بھی نہیں بچے۔ جیسے ہی اس بات کا اندازہ دیویندر فڑنویس کو ہوا، انھوں نے بھی استعفیٰ دے دیا۔ بدعنوان اور غیر قانونی طریقے سے مہاراشٹر کی گردن پر بیٹھی حکومت صرف 72 گھنٹوں میں وداع ہو گئی۔‘‘

شیوسینا نے مزید لکھا ہے کہ ’’یوم آئین کے دن سپریم کورٹ کے فیصلے سے ’تھیلی شاہی‘ اور ’دمن شاہی‘ کی سیاست کرنے والوں کو جھٹکا لگا، یہ بھی ایک خوش کن اتفاق کہا جائے گا۔ برسراقتدار طبقہ نے بھلے ہی جمہوری اقدار اور اصولوں کا بازار لگایا، باوجود اس کے سپریم کورٹ کے فیصلے سے سب کچھ ختم ہو گیا۔ ایجنٹ پیسوں کا تھیلا لے کر اراکین اسمبلی کے پیچھے گھوم رہے تھے۔ نمبر خرید کر حکومت کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔‘‘

شیوسینا نے بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’اکثریت نہ ہونے کے باوجود فڑنویس نے وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لیتے ہوئے پہلا جرم کیا، اور جس کی حمایت سے حلف برداری کی تھی، ان اجیت پوار کے اوپر لگے بدعنوانی کے سارے الزامات کو چار گھنٹے میں ختم کر دیا، یہ دوسرا جرم تھا۔ جرم کرنے کے لیے راج بھون کو منتخب کیا گیا، جہاں آئین کی حفاظت کی جانی چاہیے، ان آئین کے محافظوں نے اس جرم کو ڈھانپ دیا۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next