سی اے بی: راجیہ سبھا میں ووٹنگ کے دوران کس پارٹی کا ووٹ گیا کس خانے، دیکھیں یہاں...

شہریت ترمیمی بل 2019 راجیہ سبھا سے بھی پاس ہو گیا۔ ووٹنگ کے دوران بل کے حق میں 125 ووٹ پڑے جب کہ خلاف میں 105 ووٹ پڑے۔ شیوسینا نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

مودی حکومت کے ذریعہ پیش متنازعہ شہریت ترمیمی بل 2019 لوک سبھا کے بعد بدھ کے روز راجہی سبھا سے بھی پاس ہو گیا۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے دوپہر میں تقریباً 12 بجے اس بل کو راجیہ سبھا میں پیش کیا۔ اس کے بعد قریب 7 گھنٹے برسراقتدار طبقہ اور اپوزیشن کے درمیان زبردست بحث ہوئی اور اس کے بعد ووٹنگ کی بنیاد پر راجیہ سبھا میں بل پاس ہو گیا۔ بل کی حمایت میں 125 ووٹ پڑے جب کہ خلاف میں 105 ووٹ پڑے۔

اس بل پر ووٹنگ سے پہلے ہی شیوسینا اراکین نے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا تھا اور ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ راجیہ سبھا میں مودی حکومت کو یہ بل پاس کرانے کے لیے 121 اراکین کی حمایت چاہیے تھی، کیونکہ اس وقت راجیہ سبھا کے اراکین کی تعداد 240 ہے۔ لیکن کچھ اراکین کے ایوان میں موجود نہ ہونے اور کچھ کے واک آؤٹ کر جانے کے سبب یہ تعداد مزید کم ہو گئی تھی۔ بہر حال، راجیہ سبھا میں بی جے پی کے اپنے 83 اراکین ہیں، اس طرح اسے باقی پارٹیوں کی حمایت بھی اس بل کو پاس کرانے کے لیے ملی۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ کس پارٹی نے بل کی حمایت کی اور کس نے مخالفت میں ووٹ کیا۔

سی اے بی: راجیہ سبھا میں ووٹنگ کے دوران کس پارٹی کا ووٹ گیا کس خانے، دیکھیں یہاں...

بی جے پی کے 83 اراکین کے علاوہ نوین پٹنایک کی بی جے ڈی سے 7، شیرومنی اکالی دل سے 3، اے آئی اے ڈی ایم کے سے 11، جنتا دل یو سے 6 اور ایل جے پی سے ایک رکن کے علاوہ 4 نامزد اراکین کے ساتھ ہی سکم کے علاوہ کانگریس کو چھوڑ کر شمال مشرق کے سبھی اراکین پارلیمنٹ نے بل کی حمایت میں ووٹ دیا۔

بل کے خلاف کانگریس کے 46 اور ترنمول کانگریس کے 13 اراکین کے علاوہ سماجوادی پارٹی سے 9، بی ایس پی سے 4، بایاں محاذ اور ٹی آر ایس سے 6-6، عام آدمی پارٹی سے 3 اور آر جے ڈی سے 4 اراکین کے علاوہ 9 دیگر اراکین نے ووٹ دیا۔ شیوسینا نے شہریت ترمیمی بل پر ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا کیونکہ وہ اس بل سے پوری طرح متفق نظر نہیں آئی اور ایوان سے واک آؤٹ کر گئی۔