رنجن گوگوئی 46 ویں چیف جسٹس مقرر، حلف برداری 3 اکتوبر کو

جسٹس گوگوئی ان 4 ججوں میں شامل تھے جنہوں نے پریس کانفرنس کرکے چیف جسٹس پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ مقدمات کے الاٹمنٹ میں ماسٹر آف روسٹر ہونے کے اپنے حق کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔

نئی دہلی: صدر جمہوریہ ہند نے جسٹس راجن گگوئی کی ہندستان کے اگلے چیف جسٹس کے طور پر تقرری کی ہے۔ وہ موجودہ چیف جسٹس ، جسٹس دیپک مشرا کی ملازمت سے سبکدوشی کے بعد 3 اکتوبر 2018 کو چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالیں گے۔ وہ موجودہ چیف جسٹس دیپک مشرا کی جگہ لیں گے ، جو دو اکتوبر کو ریٹائر ہورہے ہیں۔

جسٹس گوگوئی ان چار ججوں میں شامل تھے، جنہوں نے 12 جنوری کو ایک پریس کانفرنس کرکے جسٹس مشرا پر یہ کہتے ہوئے تنقید کی تھی کہ چیف جسٹس بینچ کو مقدمات کے الاٹمنٹ میں ماسٹر آف دی روسٹر ہونے کے اپنے حق کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔

اس واقعہ کے بعد جسٹس گوگوئی کے چیف جسٹس بننے پر شک کے بادل منڈلانے لگے تھے، لیکن جسٹس مشرا نے تمام خدشات کو ختم کرتے ہوئے جسٹس گوگوئی کا نام آپ کے جانشین کے طور پر وزارت کو بھیجا تھا۔ دو موقعوں کے علاوہ ترجیح کے حکم میں سب سے اوپر جج کو چیف جسٹس بنانے کی روایت رہی ہے۔

غور طلب ہے کہ جسٹس گوگوئی آسام کے قومی شہری رجسٹر (این آرسي) کیس کی سماعت کر رہے ہیں۔ 18 نومبر 1954 کو پیدا ہونے والے جسٹس گگوئی 1978 میں ایڈوکیٹ کے طو ر پر انرولڈ ہوئے تھے۔ انہوں نے آئینی ، ٹیکس کاری اور کمپنی معاملات سے متعلق گوہاٹی ہائی کورٹ میں وکالت کی تھی۔

28 فروری 2001 کو گوہاٹی ہائی کورٹ کے مستقل جج کے طور پر ان کی تقرری ہوئی ۔ 9 ستمبر 2010 کو ان کا پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ تبادلہ ہوا تھا۔ 12 فروری 2011 کو پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طو ر پر ان کی تقرری ہوئی ۔بعد ازاں 23 اپریل 2012 کو ہندستان کی سپریم کورٹ کے جج کے طور پر ان کی تقرری ہوئی۔

سب سے زیادہ مقبول