قومی

ایودھیا میں زمین واپس کرنے کی عرضی انتخابات کو متاثر کرنے کی چال: مایاوتی

مایاوتی نے کہا کہ بی ایس پی اور ایس پی اتحاد کے بعد بی جے پی کو لگ گیا ہے کہ وہ مرکز میں دوبارہ واپس آنے والی نہیں ہے، اس سے بی جے پی کی حکومتیں گھبرا گئی ہیں اور تمام غیر مناسب ہتھکنڈے اپنا رہی ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: بہوجن سماج پارٹی کی صدر مایاوتی نے ایودھیا کے بابری مسجد-رام مندر تنازعہ میں تحویل میں لی گئی زمین کا غیر متنازعہ حصہ ’رام جنم بھومی ٹرسٹ‘ کو لوٹانے کی مرکزی حکومت کی سپریم کورٹ میں عرضی کو سیاسی اور انتخابی چال قرار دیتے ہوئے آج کہا کہ یہ عدالتی عمل میں سرکاری مداخلت اور عام انتخابات کو متاثر کرنے کی کوشش ہے۔

مایاوتی نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ایودھیا میں سال 1991 میں تحویل میں لی گئی زمین کی جوں کی توں صورت حال کو زبردستی بگاڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ عدالتی عمل میں غیر مناسب رکاوٹیں ڈالنے والا ایک قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عرضی غیر مناسب، اشتعال انگیز اور بی جے پی کی نئی انتخابی چال ہے۔

انہوں نے کہا کہ مرکز میں بی جے پی کی موجودہ حکومت نسلی، فرقہ وارانہ اور مذہبی اشتعال، کشیدگی اورتشدد وغیرہ کے ساتھ ساتھ تنگ قوم پرستی کی منفی اور مہلک پالیسی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اپنی سرگرمیوں کی بنیاد پر آئین کی روح کے مخالفانہ طریقے سے کام کر رہی تھی۔

بی ایس پی کی صدر نے کہا کہ اتر پردیش میں بی ایس پی اور سماج وادی پارٹی اتحاد کے بعد بی جے پی کو لگ گیا ہے کہ وہ مرکز میں دوبارہ اقتدار میں واپس آنے والی نہیں ہے۔ اس سے مرکز اور اترپردیش میں بی جے پی کی حکومتیں گھبرا گئی ہیں اور تمام غیر مناسب ہتھکنڈے اپنا رہی ہیں۔

انہوں نے ایودھیا معاملے پر مرکزی حکومت کی تازہ کارروائی پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں زبردست غربت، مہنگائی، بے روزگاری اور ناخواندگی سے متعلق مسائل ہیں جن سے عوام پریشان ہیں۔ قومی مسائل کو حل کرنے اور ترقی کے معاملے میں مرکزی حکومت ناکام رہی ہے اور وعدہ خلافی کی وجہ سے ملک کے سوا سو کروڑ عوام کا اعتماد کھو چکی ہے۔