ملک کے نوجوانوں، کسانوں، خواتین اور غریبوں کی اُمید ہیں راہل: کانگریس ورکنگ کمیٹی

کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں راہل گاندھی نے استعفیٰ کی پیشکش کی لیکن اسے نامنظور کرتے ہوئے کہا گیا کہ مشکل اور چیلنج بھرے ماحول میں پارٹی کو راہل گاندھی کی قیادت اور رہنمائی کی ضرورت ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

لوک سبھا انتخاب میں کانگریس کی مایوس کن کارکردگی کے بعد 25 مئی کو کانگریس ورکنگ کمیٹی کی انتہائی اہم میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ میں سونیا گاندھی، راہل گاندھی، سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ اور غلام نبی آزاد سمیت کئی سرکردہ اور سینئر پارٹی لیڈران موجود تھے اور سبھی نے مل کر شکست کے وجوہات پر غور کرنے کے ساتھ ساتھ آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا۔ اس دوران کانگریس ورکنگ کمیٹی نے لوک سبھا انتخاب میں ملے مینڈیٹ کو انکساری کے ساتھ قبول کرنے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی کہا کہ کانگریس ایک ذمہ دار اپوزیشن کا کردار نبھاتے ہوئے عوامی مسائل کو حکومت کے سامنے رکھنے کا کام کرے گی۔

میٹنگ میں کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) سربراہ نے سب سے پہلے تو پارٹی کے عہدیداروں و لیڈروں، پارٹی کارکنان اور کانگریس امیدواروں کے تئیں اظہارِ تشکر کیا اور ساتھ ہی 12.13 کروڑ ووٹروں کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے ہمت اور بیداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کانگریس کے نظریات پر اپنی مہر لگائی۔ سی ڈبلیو سی نے اتحاد میں شامل پارٹیوں اور ان کی قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا جنھوں نے کانگریس کے اصول پر مبنی لڑائی میں پارٹی کا ساتھ دیا۔

میٹنگ کے دوران کانگریس صدر راہل گاندھی نے شکست کی ذمہ داری اپنے اوپر لیتے ہوئے کانگریس ورکنگ کمیٹی کے سامنے پارٹی کے صدر عہدہ سے استعفیٰ کی پیش کش کی، لیکن سی ڈبلیو سی اراکین نے اتفاق رائے اور ایک آواز میں اس پیشکش کو خارج کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ اس مشکل اور چیلنج بھرے ماحول میں پارٹی کو راہل گاندھی کی قیادت اور رہنمائی کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی سی ڈبلیو سی نے کانگریس صدر راہل گاندھی سے ملک کے نوجوانوں، کسانوں، خواتین شیڈولڈ کاسٹ/شیڈولڈ ٹرائب/پسماندہ، غریبوں، استحصال زدہ اور محروموں کے مسائل کے لیے آگے بڑھ کر کام کرنے کی گزارش کی۔

سی ڈبلیو سی نے لوک سبھا انتخاب 2019 میں ان چیلنجز، ناکامیوں اور خامیوں کا اعتراف کیا جن کی وجہ سے مینڈیٹ پارٹی کے حق میں نہیں آیا۔ سی ڈبلیو سی نے پارٹی کی ہر سطح پر مکمل خود احتسابی کے ساتھ ساتھ کانگریس صدر کو یہ طاقت بھی دی کہ وہ پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے میں ضروری اور وسیع تبدیلی کریں۔ اس کے لیے جلد از جلد کوئی منصوبہ تیار کرنے کے لیے بھی کہا گیا۔

میٹنگ میں کانگریس کی شکست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ پارٹی انتخاب ضرور ہاری ہے لیکن پارٹی لیڈران و کارکنان کی ہمت، جہدوجہد کے جذبہ اور اصولوں کے تئیں ہمارے عزائم پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہیں۔ کانگریس پارٹی نفرت اور تقسیم کرنے والی طاقتوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔

سی ڈبلیو سی میٹنگ کے دوران ملک کے موجودہ مسائل کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا کہ ملک کے سامنے اس وقت کئی سارے چیلنجز ہیں جن کا حل نئی حکومت کو تلاش کرنا ہے۔ ایران پر پابندی لگنے کے بعد تیل کی بڑھتی قیمتیں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ بینکنگ نظام سنگین حالت میں ہے اور این پی اے گزشتہ پانچ سالوں میں بے قابو ہو کر بڑھتے ہوئے 12 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئے ہیں جس سے بینکوں کا استحکام خطرے میں ہے۔ اس کے علاوہ این بی ایف سی، جن میں لوگوں کی محنت کی کمائی جمع ہے، ان کے معاشی استحکام پر سنگین سوال کھڑے ہیں۔ نجی سرمایہ کی کمی اور کنزیومر گوڈس کی فروخت میں تیز گراوٹ کے ساتھ معیشت میں بحران کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ملازمتوں کا بحران بھی ہے جس کا کوئی حل نہیں نکل رہا اور اس سے نوجوانوں کا مستقبل خطرے میں ہے۔

اس میٹنگ میں کچھ اہم ریاستی مسائل پر بھی غور و خوض کیا گیا۔ سی ڈبلیو سی میٹنگ سے متعلق جو قرارداد پاس ہوا اس میں کہا گیا ہے کہ آندھرا پردیش، تلنگانہ، مہاراشٹر اور کرناٹک جیسی کئی ریاستوں میں خشک سالی کی حالت ہے اور ملک میں زراعتی بحران کا ماحول ہے۔ ہمارے ادارے ہندوستان کے آئینی جمہوریت کی شناخت ہیں، لیکن آج ان کی غیر جانبداری و سالمیت پر خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ ملک میں سماجی خیر سگالی اور بھائی چارے پر لگاتار حملہ ہو رہا ہے۔

سی ڈبلیو سی نے میٹنگ میں کہا کہ یہ سارے جو ایشوز ہیں ان پر آئندہ حکومت کے ذریعہ فوری توجہ دیئے جانے کی ضرورت ہے۔ بی جے پی حکومت کی ذمہ داری اور جوابدہی ہے کہ ملک کے سامنے ان مسائل کا فوری حل نکالا جائے۔ کانگریس پارٹی ان مسائل کا حل نکالنے میں مثبت اور معاون کا کردار ادا کرے گی۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی نے امید ظاہر کی کہ مرکز کی بی جے پی حکومت ان مسائل کو اعلیٰ ترجیحی بنیاد پر حل کرے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔