پنجاب اسمبلی: زرعی قانون اور بی ایس ایف کا دائرہ بڑھانے کے خلاف قرارداد منظور

ریاستی قانون ساز اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں مرکزی زرعی قوانین پر عمل درآمد نہ کرنے اور بی ایس ایف کا ریاست میں دائرہ اختیار بڑھا کر 50 کرنے کے مرکز کے نوٹیفکیشن کے خلاف ایوان میں قرارداد منظور کی

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

چنڈی گڑھ: پنجاب حکومت نے ریاستی قانون ساز اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں مرکزی زرعی قوانین پر عمل درآمد نہ کرنے اور بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) کا ریاست میں دائرہ اختیار 15 کلومیٹر سے بڑھا کر 50 کرنے کے مرکز کے نوٹیفکیشن کے خلاف گزشتہ روز ایوان میں قرارداد منظور کی۔

زرعی قوانین کے خلاف وزیر زراعت رندیپ سنگھ نابھا اور بی ایس ایف سے متعلق قرار داد نائب وزیر اعلیٰ سکھجندر سنگھ رندھاوا نے پیش کیں۔ بی ایس ایف کا دائرہ کار بڑھانے سے متعلق قرارداد پیش کرتے ہوئے مسٹر رندھاوا نے مرکز پر ریاستوں کے حقوق میں مداخلت کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان ریاست کا موضوع ہے اور وہ امن و امان برقرار رکھنے کی اہل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں مرکز بی ایس ایف کا دائرہ بڑھا کر ریاستوں کے حقوق کو سلب کرنے اور انہیں کمزور کرنے کا کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس ایف کا دائرہ اختیار بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے اسے ریاست کے عوام کی توہین قرار دیا۔


اس کے ساتھ ہی ایوان میں یہ سوال بھی اٹھا کہ اس سے پہلے زرعی قوانین کے حوالے سے سابقہ کیپٹن امریندر سنگھ حکومت کے دور میں ایوان میں قرارداد پاس ہو چکی ہے لیکن ایسی قراردادوں کی آئینی حیثیت کیا ہے؟ دوسری طرف ایم ایل اے کنور سندھو نے بی ایس ایف کے دائرہ کار کو بڑھانے کے بارے میں کہا کہ مرکز ملک کے وفاقی ڈھانچے کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایم ایل اے سمرجیت سنگھ مان نے اس کی مخالفت کی۔ دوسری جانب کابینی وزیر پرگت سنگھ نے کہا کہ بی ایس ایف کو سرحدی علاقوں میں صرف پانچ کلومیٹر کے علاقے کی ضرورت ہے۔

دوسری طرف، ایوان میں اپوزیشن لیڈر اور عام آدمی پارٹی (اے اے پی) لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر ہرپال سنگھ چیمہ نے مرکز کے اس اقدام کو ریاست کے مفادات کے ساتھ دھوکہ قرار دیا۔ ریاست کی سابقہ ​​اور موجودہ کانگریس حکومت کے وزرائے اعلیٰ پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی ایس ایف کے سلسلے میں مرکز کے اس اقدام کے پیچھے ان ہی کا رول ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں وزرائے اعلیٰ کی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ سے ملاقات ہوتی رہی ہے۔ ان ملاقاتوں میں کیا ڈیل ہوئی یہ سامنے آنی چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کیپٹن امریندر سنگھ بھی ریاست کو درپیش سیکورٹی خطرے کی بات کرتے تھے اور اب موجودہ وزیر اعلی چرنجیت سنگھ چنی بھی وہی زبان بول رہے ہیں۔ دریں اثناء ایوان میں یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔