قومی

طلاق ثلاثہ پر پھر آرڈیننس لائی حکومت، صدر نے دی منظوری

طلاق ثلاثہ سے متعلق بل اور دو دیگر بلوں کے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں منظور نہ ہونے کی وجہ سے ان کی جگہ دوبارہ لائے جانے والے متعلقہ آرڈیننس کو صدر رام ناتھ كووند نے منظوری فراہم کر دی ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی

یو این آئی

نئی دہلی: طلاق ثلاثہ سے متعلق بل اور دو دیگر بلوں کے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں منظور نہ ہونے کی وجہ سے ان کی جگہ دوبارہ لائے جانے والے متعلقہ آرڈیننس کو صدر رام ناتھ كووند نے منظوری فراہم کر دی ہے۔

طلاق ثلاثہ کی روایت کو فوجداری کے تحت جرم قرار دینے سے متعلق مسلم خواتین (شادی کے حقوق کا تحفظ) بل 2018، میڈیکل کونسل آف انڈیا (ترمیمی) بل 2018 اور کمپنی (ترمیمی) بل، 2019 لوک سبھا میں تو منظور ہو گئے تھے لیکن انہیں راجیہ سبھا میں منظوری نہیں مل سکی تھی۔ لہذا کابینہ نے گزشتہ 10 جنوری کو دوبارہ آرڈیننس لانے کا فیصلہ کیا۔

تین طلاق اور میڈیکل کونسل پر آرڈیننس گزشتہ سال ستمبر میں اور کمپنی قانون میں ترمیم کے لئے آرڈیننس گزشتہ سال نومبر میں لایا گیا تھا۔ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں تینوں سے متعلق بل لوک سبھا میں منظور ہو گئے، لیکن ہنگامے کی وجہ سے راجیہ سبھا میں زیادہ تر وقت کاروائی نہ ہونے کی وجہ سے یہ ایوان بالا میں منظور نہیں ہو سکے۔

واضح رہے کہ آرڈیننس لانے کے بعد اگلے پارلیمنٹ سیشن کے شروع ہونے کے 42 دن کے اندر اس سے متعلق بل اگرپارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں منظور نہیں ہو پاتا ہے تو آرڈیننس خود بہ خود خارج ہو جاتا ہے لہذا حکومت کو تینوں آرڈیننس دوبارہ لانے پڑے ہیں۔

تین طلاق سے متعلق آرڈیننس میں تحریری، زبانی یا کسی دوسرے ذریعے سے تین طلاق دینے کو غیر قانونی بنایا گیا ہے۔ اس میں ڈیجیٹل ذرائع سے دیئے گئے تین طلاق کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

تین طلاق دینے والے کو تین سال تک کی سزا اور جرمانے کی تجویز ہے۔آرڈیننس کے ذریعے اسے غیر ضمانتی جرم بنایا گیا ہے، حالانکہ مجسٹریٹ میاں بیوی کے درمیان صلح کرانے اور بیوی کی دلیل سننے کے بعد شوہر کو ضمانت دے سکتا ہے۔کمپنی قانون میں ترمیم والے آرڈیننس کے ذریعے کمپنی قانون کی 16 دفعات میں ترمیم کی گئی ہے۔