اڈیشہ میں پنچایتی انتخابات کا اعلان، پانچ مراحل میں ہوگی ووٹنگ

ریاستی الیکشن کمیشن نے کہا کہ کووڈ وبا کے پیش نظر کمیشن نے کووڈ کی تفصیلی رہنما ہدایات جاری کی ہیں، انتخابی مہم کے سلسلے میں ہر قسم کے جلسے، جلوس اور بائیک ریلیوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

ووٹ، علامتی تصویر یو این آئی
ووٹ، علامتی تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

بھونیشور: اڈیشہ کے ریاستی الیکشن کمشنر اے پی پادھی نے منگل کو پنچایتی اداروں کے انتخابات پانچ مرحلوں میں کرانے کا اعلان کیا۔ انتخابات 16، 18، 20، 22 اور 24 فروری کو ہوں گے۔ اے پی پادھی نے یہاں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تین سطحی پنچایتی اداروں کے انتخابات کا نوٹیفکیشن 13 جنوری کو جاری کیا جائے گا۔ کاغذات نامزدگی داخل کرنے کا عمل 17 جنوری سے 21 جنوری تک جاری رہے گا۔ اس کے علاوہ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 22 جنوری کو کی جائے گی، جبکہ کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ 25 جنوری مقرر کی گئی ہے۔ امیدواروں کی حتمی فہرست 25 جنوری کو جاری کی جائے گی۔ پولنگ پانچ مرحلوں میں ایک دن کے وقفے کے ساتھ کی جائے گی۔

پہلے مرحلے کی پولنگ 16 فروری اور آخری مرحلے کی پولنگ 24 فروری کو ہوگی۔ ووٹوں کی گنتی 26، 27 اور 28 فروری کو ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 2.79 کروڑ ووٹر 9193 وارڈ ممبران، 6793 پنچایت سمیتی ممبران، 6794 سرپنچ ممبران اور 853 ضلع پریشد ممبران کے انتخاب کے لیے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ پولنگ کا وقت ایک گھنٹہ بڑھا دیا گیا ہے اور یہ صبح 7 بجے سے دوپہر 1 بجے تک جاری رہے گا۔ گزشتہ پنچایتی انتخابات میں صبح 7 بجے سے دوپہر 12 بجے کے درمیان ووٹنگ ہوئی تھی۔


ریاستی الیکشن کمیشن نے کہا کہ کووڈ وبا کے پیش نظر کمیشن نے کووڈ کی تفصیلی رہنما ہدایات جاری کی ہیں۔ انتخابی مہم کے سلسلے میں ہر قسم کے جلسے، جلوس، عوامی و سیاسی جلسے، پیدل یاترا اور بائیک ریلیوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ تاہم کمیشن نے زیادہ سے زیادہ پانچ ارکان کو گھر گھر مہم چلانے کی اجازت دی ہے۔ ے پی پادھی نے کہا کہ ریاست میں منگل سے مثالی ضابطہ اخلاق نافذ ہو گیا ہے جو اگلے ماہ 28 فروری تک جاری رہے گا۔ کمیشن نے کہا کہ امیدوار انتخابی مہم کے دوران ڈیجیٹل میڈیا کا استعمال اور ورچوئل موڈ میں میٹنگ کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ رہنما ہدایات کی خلاف ورزی پر سختی سے نمٹا جائے گا اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

کمیشن نے کہا کہ پچھلی بار کی طرح اس بار بھی انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے تقریباً 200 پلاٹون تعینات کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کے دفتر میں کال سینٹر قائم کیا جائے گا، جو صبح 9 بجے سے شام 6 بجے تک چلے گا۔ اس کے علاوہ کنٹرول روم صبح 8 بجے سے رات 9 بجے تک چلے گا۔ پادھی نے کہا کہ نئی ترمیم کے مطابق اگر امیدواروں نے اندراج میں جعلی تعلیمی ریکارڈ جمع کروایا تو ان پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔