کشمیری لیڈران گھروں میں نظر بند، انتظامیہ عام جمہوری سرگرمیوں سے خوفزدہ: عمر عبداﷲ

عمر عبدا ﷲ نے بتایا کہ ’پی اے جی ڈی‘ کے پُر امن احتجاج پر انتظامیہ نے قدغن لگائی، نئے سال کے پہلے ہی دن پولیس نے غیر قانونی طریقے سے لوگوں کو بند کیا، انتظامیہ عام جمہوری سرگرمیوں سے خوفزدہ ہے

عمر عبداللہ، تصویر یو این آئی
عمر عبداللہ، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

سری نگر: نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبدا ﷲ نے بتایا کہ ”پی اے جی ڈی“کے پُر امن احتجاج پر انتظامیہ نے قدغن لگائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے سال کے پہلے ہی دن پولیس نے غیر قانونی طریقے سے لوگوں کو بند کیا۔ اُن کے مطابق انتظامیہ عام جمہوری سرگرمیوں سے خوفزدہ ہے۔

عمرنے بتایا کہ احتجاج کو روکنے کے لئے گیٹ کے سامنے پولیس نے ہفتے کی صبح کو گاڑیاں کھڑی کی ہیں۔ نائب صدر کا کہنا ہے کہ بعض چیزیں کھبی تبدیل نہیں ہوتیں۔ ”پی اے جی ڈی “کے ترجمان نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ گپکار ڈیکلریشن سے وابستہ سبھی لیڈران کو گھروں میں نظر بند رکھا گیا ہے۔


انہوں نے بتایا کہ ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداﷲ، پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی اور ایم وائی تاریگامی کو ہفتے کی صبح کو گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اُن کے مطابق گپکار ڈیکلریشن سے وابستہ سبھی لیڈران کو غیر جمہوری اور غیر قانونی طریقے سے گھروں میں نظر بند کیا گیا جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔