شہریت ترمیمی ایکٹ قانون پر اپوزیشن جماعتیں غلط فہمیاں پھیلا رہی ہیں: مودی

وزیرا عظم نریندرمودی کے کولکاتا آمد کے موقع پر کولکاتا میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں، اپوزیشن جماعتیں کانگریس، بایاں محاذ اور ترنمول کانگریس نے مختلف مقاما ت پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

کولکاتا: وزیر اعظم نریندر مودی نے آج ایک بار پھر یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ ”شہریت ترمیمی ایکٹ“ کی وجہ سے کسی بھی ہندوستانی کی شہریت چھینی نہیں جائے گی۔ وزیرا عظم جو کولکاتا کے دو روزہ دورے پر ہیں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں غلط فہمیاں پھیلا رہی ہے۔ وزیرا عظم کی کولکاتا آمد کے موقع پر گزشتہ دو دنوں سے کولکاتا میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں اور کولکاتا کی سڑکوں پر جا بجا ”مودی واپس جاؤ“ کے نعرے لکھے ہوئے ہیں۔

رام کرشن مشن کے ہیڈ کوارٹر بیلور مٹھ میں طلباء سے کہا کہ ”میں ایک بار پھر دوہراتا ہوں کہ شہریت ترمیمی ایکٹ کسی بھی شخص کے خلاف نہیں ہے اور نہ ہی اس مقصد کا کسی کی بھی شہریت کو چھیننا ہے بلکہ یہ شہریت دینے والا قانون ہے۔ وزیرا عظم نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی کے بعد مہاتما گاندھی اور دیگر بڑے لیڈران بھی پاکستان کے اقلیتی طبقہ جسے مذہبی بنیاد پر پریشانی اور ظلم کے شکار ہیں ان کیلئے یہ قانون بنایا گیا ہے۔

وزیرا عظم نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں اس قانون کو سمجھنے کو تیار نہیں ہے اور ہندوستانی شہریوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ کچھ تنظیمیں اور جماعتیں بھی اس میں شامل ہیں۔ مگر مجھے خوشی ہے کہ ملک کے نوجوان غلط فہمیوں کے ازالے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ ہماری ذمہ داری نہیں ہے کہ مظلوم لوگوں کی مدد کی جائے۔ کیا آپ لوگوں کو ہمارا ساتھ نہیں دینا چاہیے؟

اس قانون کی وجہ سے پاکستان میں ہندؤں پر ہونے والے مظالم سے متعلق دنیا کو واقفیت ہوئی ہے اور پاکستان کو جواب دینا پڑا ہے۔ اس موقع پر سوامی وی ویکانند کو خراج عقیدت پیش کیا۔ وزیرا عظم نے کہا کہ جب بیلور مٹھ کے بچے سی اے اے کے قانون کو سمجھ سکتے ہیں تو پھر اپوزیشن جماعتیں اس قانون کو کیوں نہیں سمجھ رہی ہیں۔ وزیرا عظم نے کہا کہ ہم جو نوجوان اس قانون کو نہیں سمجھ رہے ہیں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم انہیں سمجھائیں کے جو لوگ ہمارے ملک میں پناہ گزیں ہیں انہیں دوبارہ اس جہنم میں کیسے بھیجا جاسکتا ہے۔

خیال رہے کہ وزیرا عظم نریندرمودی کے کولکاتا آمد کے موقع پر کولکاتا میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں، اپوزیشن جماعتیں کانگریس، بایاں محاذ اور ترنمول کانگریس نے مختلف مقاما ت پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ سیکورٹی انتظامات سنبھال رہے پولس اہلکاروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے راج بھون میں اور ہوڑہ برج کے لائٹ کے افتتاح کے موقع پر وزیرا عظم کے ساتھ نظر آئیں مگر ساتھ میں ہی وہ شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف ترنمول چھاترپریشد کے مظاہرے میں شرکت بھی کی۔

وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ گرچہ پروٹوکول کے تحت وزیرا عظم مودی کا استقبال کیا ہے اور آئینی تقاضے کی پاسداری کی ہے۔ تاہم میں نے وزیرا عظم مودی سے ملاقات کے دوران صاف صاف کہا ہے کہ ریاست میں شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آرسی نافذ کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے۔ وزیرا علیٰ نے طلباء سے کہا کہ اس قانون کے خلاف عوام میں بیداری لائیں اور بتلائیں یہ قانون ہندوستان کے دستور کے منافی ہے۔

وزیرا عظم نریندر مودی کی تقریر پر تنقید کرے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر سومن مترا نے کہا کہ وزیرا عظم مودی نے نصف باتیں بتائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا آئین مذہبی بنیادوں پر تفریق کی اجازت نہیں دیتا ہے اور جب اس قانون کو این آر سی سے جوڑ دیا جائے گا تو یہ قانون خطرناک ہوجائے گا۔

سی پی ایم پولٹ بیورو کے رکن محمد سلیم نے کہا کہ وزیرا عظم یہ تقریر سوامی وی ویکانند کی سرزمین پر کی ہے جنہوں نے ایک ایسے ملک کی تعمیر کا خواب دیکھایا تھا جہاں مذہب کی بنیاد پر تفریق کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ محمد سلیم نے کہا کہ وزیرا عظم اور بی جے پی لیڈروں کے بیانات میں تضادات ہیں۔ کوئی بول رہا ہے کہ اس قانون کو این آر سی سے جوڑ کر دیکھا جائے اور وزیر اعظم بول رہے ہیں این آر سی پر بات نہیں ہوئی ہے تو پھر ہم کس پر یقین کریں۔ واضح رہے کہ محمد سلیم گزشتہ دودنوں سے وزیر اعظم مودی کے خلاف بایاں محاذ کے احتجاج کی قیادت کر رہے ہیں۔

next