بے رحم ہوئی مودی حکومت، تیل کی قیمت میں لگاتار 20ویں دن اضافہ

ایک طرف دہلی میں ڈیزل اور پٹرول دونوں کی قیمتیں 80 روپے فی لیٹر سے متجاوز ہو گئی ہیں، وہیں ممبئی میں پٹرول تقریباً 87 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: اپوزیشن پارٹیوں کے ذریعہ لگاتار احتجاج اور تیل کی قیمتوں میں کمی کرنے کے مطالبہ کے باوجود آج لگاتار بیسویں دن اس میں اضافہ کیا گیا۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے مودی حکومت کو عوام کی کوئی فکر نہیں اور وہ بے رحم ہو گئی ہے۔ کانگریس، آر جے ڈی اور بایاں محاذ جیسی پارٹیاں سڑکوں پر نکل کر تیل کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف پرامن مظاہرہ کر رہی ہیں، لیکن ان کے مطالبات پر غور کرنے اور عوام کو راحت پہنچانے کی جگہ اپوزیشن پارٹی لیڈران کو کہیں گرفتار کیا جا رہا ہے تو کہیں ان پر کیس درج کیا جا رہا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے مطابق 26 جون کی صبح ایک بار پھر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔ تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ لگاتار بیسویں دن ہوا ہے۔ قیمتوں میں لگاتار ہو رہے اضافوں کی وجہ سے حالت یہ ہو گئی ہے کہ قومی راجدھانی دہلی میں 20 مہینے بعد پٹرول 80 روپے سے مہنگا فروخت ہورہا ہے۔ ملک کی سب سے بڑی تیل تقسیم کرنے والی کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کے مطابق دہلی میں جمعہ کو پٹرول کی قیمت 21 پیسے بڑھ کر 80.13 روپے فی لیٹر پر پہنچ گئی جو کہ 27 اکتوبر 2018 کے بعد کی اعلی سطح ہے۔ ڈیزل کی قیمت بھی 17 پیسے بڑھ کر 80.19 روپے فی لیٹر کی نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔ اس طرح دیکھا جائے تو تاریخ میں پہلی بار دہلی میں پٹرول اور ڈیزل دونوں 80 روپے فی لیٹر سے مہنگا فروخت ہو رہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اس مہینے 7 تاریخ سے تیل تقسیم کرنے والی کمپنیوں نے دونوں ایندھنوں کے دام بڑھانے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ اس دوران دہلی میں پٹرول 8.87 روپے یعنی 12.45 فیصد مہنگا ہوا ہے۔ اسی طرح مسلسل 20 دن میں ڈیزل کی قیمت 10.80 روپے یعنی 15.56 فیصد بڑھ گئی ہے۔

بہر حال، کولکاتا اور ممبئی میں پٹرول کی قیمت 21-21 پیسے بڑھ کر بالترتیب 81.82 روپے اور 86.91 روپے فی لیٹر پر مستحکم رہی۔ چنئی میں یہ 19 پیسے کے اضافے کے ساتھ 83.37 روپے فی لیٹر پررہی۔ ڈیزل کولکاتا میں 16 پیسے مہنگا ہوکر 75.34 روپے، ممبئی میں 17 پیسے مہنگا ہوکر 78.51 روپے اور چنئی میں 15 پیسے کے اضافہ کے ساتھ 77.44 روپے فی لیٹر فروخت ہوا۔

next