ایم پی: گئو کشوں کے خلاف این ایس اے کی کارروائی، کانگریس رہنماؤں کا احتجاج

گئوکشی اور گایوں کی خرید وفرخت کے ملزمین پر این ایس اے کے تحت کارروائی کیے جانے کے معاملے پر مہاراشٹر کے سینئر کانگریسی لیڈر اور سابق کابینہ وزیر محمد عارف نسیم خان نے سب سے پہلے اعتراض ظاہر کیا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

ممبئی: مدھیہ پردیش میں گئوکشی اورگایوں کی خرید وفرخت کے ملزمین پر نیشنل سیکورٹی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت کارروائی کیے جانے کے معاملے پر مہاراشٹر کے سینئر کانگریسی لیڈر اور سابق کابینہ وزیر محمد عارف نسیم خان کے اعتراض کے بعد اب کانگریس کے اعلی لیڈران نے بھی اس کے خلاف آواز بلند کرنی شروع کردی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ نسیم خان کے اعتراض کو کانگریس ہائی کمان نے نہایت سنجیدگی سے لیا ہے اور مدھیہ پردیش حکومت اپنے فیصلے کو واپس لے گی۔

واضح رہے کہ 7 فروری کو دہلی کے جواہرلال نہرو اسٹیڈیم میں منعقدہ کانگریس اقلیتی شعبہ کے کنونشن میں نسیم خان نے مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے این ایس اے لگائے جانے پر سخت اعتراض کیا تھا اور کہا تھا کہ گئوکشی کے ملزمین پر این ایس اے لگایا جانا غلط ہے، اگر گئوکشی کے ملزمین پر این ایس اے لگایا جاتا ہے تو پھر گئوکشی کے نام پر موب لنچنگ کرنے والوں پر بھی اسی قانون کے تحت کاروائی ہونی چاہیے۔ ان کے اس اعتراض پر اس کنونشن میں موجود ملک بھر سے آئے لیڈروں نے بھی حمایت کی تھی۔ اس کنونشن میں کانگریس کے کئی اہم لیڈران کے ساتھ پارٹی کے قومی صدر راہل گاندھی بھی شامل ہوئے تھے۔

اعتراض کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اسی دن مدھیہ پردیش کے سابق وزیراعلی دگ وجے سنگھ نے بھی این ایس اے کے تحت کارروائی کیے جانے کو غلط قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ مدھیہ پردیش حکومت کو گئوکشی کے ملزمین پراس قانون کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ دگ وجے سنگھ کے بعد اب کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر خزانہ پی چدمبرم نے بھی مدھیہ پردیش حکومت کے اس فیصلے کے خلاف آواز بلند کی ہے اور اسے غلط قرار دیا ہے۔

اس معاملہ پر کانگریس کے سینئر لیڈر دگوجے سنگھ نے کہا تھا کہ ’’گئوکشی کے الزام پر این ایس اے نہیں لگایا جانا چاہیے۔ ملزمین کے خلاف گئو کشی معاملہ پر بنے قانون کے تحت کارروائی کی جانی چاہیے تھی، این ایس اے لگائے جانے کو درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔‘‘ دگوجے سنگھ نے مزید کہا تھا کہ ’’ضلع انتظامیہ نظم و نسق کو قابو میں کرنے کے لیے این ایس اے کے تحت کارروائی کر سکتی ہے۔ کچھ معاملوں میں پولس یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کس سیکشن اور قانون کے تحت کارروائی کی جانی ہے۔ لیکن اس گئوکشی کے معاملہ میں مجھے لگتا ہے کہ ملزمین پر این ایس اے لگایا جانا مناسب نہیں ہے۔‘‘

ادھر بھوپال سے کانگریس کے رکن اسمبلی عارف مسعود نے بھی ملزمین پر این ایس اے لگائے جانے کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ گرفتار کوئی بھی شخص گئوکشی کے معاملے میں ملوث نہیں ہے اور یہ بھی پتہ چلا ہے کہ کانگریس اقلیتی سیل نے اس تعلق سے اپنا احتجاج نئی دہلی میں کانگریس صدر راہل گاندھی کی موجودگی میں درج کیا ہے۔