این پی آرہندوستان کے غریب اورپسماندہ طبقات کے لئے نقصان دہ: انیس الرحمن قاسمی

آرایس ایس ذہنیت کی حامل موجودہ حکومت ہندوستان کے سیکولرزم اورجمہوری ڈھانچے کوختم کرنے کی منصوبہ بندی کرچکی ہے۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

یو این آئی

مدھوبنی ضلع کے ململ میں کالے قانون کے خلاف چل رہے دھرنےکے 35ویں دن مظاہرین کی حوصلہ افزائی کے لیے آج آل انڈیاملی کونسل کے قومی نائب صدر مولاناانیس الرحمن قاسمی نے شرکت کی۔ مولاناانیس الرحمن نے دھرنےکوخطاب کرتے ہوئے کہاکہ آرایس ایس ذہنیت کی حامل موجودہ حکومت ہندوستان کے سیکولرزم اورجمہوری ڈھانچے کوختم کرنے کی منصوبہ بندی کرچکی ہے۔

مولاناقاسمی نے کہاکہ جن لوگوں کے آباء واجداداوراکابرین نے اپنی جانوں کی بازی لگاگراس ملک کوظالم انگریزوں کے چنگل سے آزادکرایاانہیں کوآج آرایس ایس کی پوجاکرنے والے ملک کے غداربتاتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اصل غدارتویہی لوگ ہیں جن کے آباءواجدادنے مہاتماگاندھی جی کاقتل کیا۔

انہوں نے کہاکہ بی جے پی حکومت نے گزشتہ چھ سالوں میں ہندوستانی آئین میں ترمیم کرکے دسیوں خلاف دستورقانون بنایاہے،لیکن ان میں سب سے خطرناک موجودہ متنازع شہریت ترمیمی قانون ہے۔اوراس کے بعداس سے بھی زیادہ خطرناک اسی سال کے ماہ اپریل سے پورے ملک میں نافذ ہونے والاقانون این پی آرہے جودراصل این آرسی کاچوردروازہ ہے۔انہوں نے کہاکہ ان دونوں قانون سے سب سے زیادہ نقصان ہندوستان کے غریب اورپسماندہ طبقے کاہوگا۔

انہوں نے کہاکہ غیرمسلم دلت اوردوسرے طبقات کی تومشکلیں کچھ برسوں تک رہنے کے بعدانہیں ہندوستان کی شہریت دوبارہ مل جائے گی؛لیکن مسلم پسماندہ طبقہ کے زیادہ ترلوگ بے وطن متعین کیے جائیں گے۔اس لیے ہم لوگوں کواس کالے قانون کے خلاف لمبی تحریک چلانی ہوگی اوران قوانین کے نقصان سے دلت اورپچھڑے طبقے کے ہندوبھائیوں کوبھی آگاہ کرناہوگا؛تاکہ ان کے ساتھ مل کراس تحریک کوچلاناہمارے لیے آسان ہواورہم یہ جنگ جیت سکیں۔

مولانا نافع عارفی نے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہندوستان میں آزادی کے بعدکسی نہ کسی مطالبے کولے کرہزاروں تحریکیں چلائی گئیں لیکن کسی تحریک میں اتنی بڑی تعدادمیں خواتین کوگھرسے باہرنکل آوازبلند کرتے نہیں دیکھااورخوشی کی بات ہے کہ ہماری اس لڑائی میں بڑی تعدادمیں ہمارے برادران وطن بھی شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ اس وقت ملک کی باگڈورایسے ہاتھوں میں ہے جنہیں ملک کی ترقی اورملک کے عوام کی خوشی اورآرام وراحت پسند نہیں؛ اس لیے آئے دن ایسے ایسے غیرضروری قوانین لائے جارہے ہیں،جن سے ملک کاہرشہری پریشان ہے۔ملک میں اب نہ روزگارکی بات چل رہی ہے،نہ عدل وانصاف کاکہیں چرچاہے۔ملک میں اب توفقط بی جے پی اورآرایس ایس کے کارکنان اورلیڈران کی زہریلی بولیوں کی بوچھارہورہی ہے۔