ہندوستان نژاد مصنف وی ایس نائپال کا انتقال

نادرہ نائپال نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا، ’’حیرت انگیز تخلیقی کوششوں سے بھرئی ہوئی زندگی بسر کرنے والے مشہور مصنف نے اپنے قریبی لوگوں کے درمیان آخری سانس لی۔‘‘

لندن: ہندوستانی نژاد نوبل انعام یافتہ برطانوی مصنف وی ایس نائپال کا ہفتہ کو انتقال ہو گیا، وہ 85 سال کے تھے۔ نائپال نے لندن میں واقع اپنے گھر میں آخری سانس لی۔

ان کی اہلیہ نادرہ نائپال نے ایک بیان جاری کرکے ان کے انتقال کی اطلاع دی۔ نادرہ نے اپنے بیان میں بتایا کہ ’’حیرت انگیز تخلیقی کوششوں سے بھرئی ہوئی زندگی بسر کرنے والے مشہور مصنف نے اپنے قریبی لوگوں کے درمیان آخری سانس لی۔‘‘

نائپال کی پیدائش 1932 میں کیریبین جزائر ٹرینیڈاڈ میں ایک ہندوستانی خاندان میں ہوئی تھی۔ ان کا پورا نام وديادھر سورج پرساد نائپال تھا۔ نائپال نے اپنی تحریری کریئر کی شروعات 1950 کی دہائی میں کی۔ ان کے مشہور ناولوں میں ’اے ہاؤس فار مسٹر بسواس'، 'ان اے فری اسٹیٹ ' اور 'اے بینڈ ان دی ریور' شامل ہیں۔

نائپال کا بچپن انتہائی غربت میں گزرا۔ صرف 18 سال کی عمر میں اسکالر شپ حاصل کرنے کے بعد وہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے انگلینڈ چلے گئے۔

انہوں نے اپنا پہلا ناول آکسفورڈ یونیورسٹی میں طالب علمی کے دوران ہی لکھا تھا لیکن وہ شائع نہیں ہوا۔ انہوں نے 1954 میں آکسفورڈ یونیورسٹی چھوڑ دی اور لندن کی نیشنل پورٹریٹ گیلری میں ایک كیٹ لاگر کے طور پر کام شروع کر دیا۔ ' مسٹک میسر‘ ان کا پہلا ناول تھا جسے شائع کیا گیا۔

برطانیہ کی ملکہ الزبتھ نے سال 1989 میں انہیں نائٹ ہڈ کے خطاب سے نوازا۔ ادب کے میدان میں قابل ذکر خدمات کے لئے نائپال کو 1971 میں بکر پرائز اور 2001 میں ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔

سب سے زیادہ مقبول