شاہین باغ: ایک ہی کام کریں گے، ڈریں گے یا جیئیں گے... کنہیا کمار

شاہین باغ میں جاری خواتین کا احتجاج ہر نئے دن نئے جوش کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ۔ کل رات کنہیا کمار شاہین باغ پہنچے اور انہوں نے کہا کہ اب ہم ڈریں گے نہیں ۔

سوشل میڈیا 
سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

شاہین باغ کی خواتین میں کل رات اس وقت جوش آسمان چھونے لگا جب جے این یو طلباء یونین کے سابق صدر کنہیا کمار ان کے بیچ پہنچ گئے ۔ کنہیا کمار نے جہاں اپنے انداز میں آزادی کے نعرے لگائے وہیں انہوں نے کہا کہ ’’یا تو ہم ڈریں گےیا جیئیں گے اب ڈر ڈر کے تو نہیں جیئیں گے۔ ‘‘انہوں نے کہا کہ خواتین جس تحریک میں میدان میں آ جاتی ہیں اس تحریک کو کوئی روک نہیں سکتا۔

کنہیا کمار نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر کوئی سرکاری ملازم آپ کے یہاں آئے تو اس کو بتا دیجئے کہ آپ لوگ آئین کے خلاف کوئی کام نہیں کرتے اور یہ شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر غیر ٓائینی ہیں۔ وہ یہیں نہیں رکے انہوں نے کہا کہ اپنے محلوں کے باہر لکھ کر لگا دیجئے کہ آپ آئین کے خلاف کوئی کام نہیں کرتے اس لئے یہاں کوئی آئین کے خلاف کام کرانے کے لئے نہیں آئے یعنی این پی آر وغیرہ کے لئے نہیں آئے ۔ انہوں نے پورے قانون کی مزاق اٹاتے ہوئے کہا کہ اگرکوئی آپ سے آپ کے والد کی جائع پیدائش کے بارے میں پوچھے تو اس سے اس کی نانی کی نانی کی نانی کی پیدائش کی جگہ کے بارے میں پوچھئے گا ۔

واضح رہے جامعہ میں تشدد کے بعد سے اوکھلا کے شاہین باغ علاقہ کی خواتین مسلسل رات کو اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ یہاں سے جب تک نہیں ہٹیں گی جب تک حکومت شہریت ترمیمی قانون واپس نہیں لے لیتی ۔ شاہیں باغ میں خواتین قومی اور انقلابی ترانہ گاتی ہیں ۔