نتیش کمار کو اپنے گرتے سیاسی قد کا اندازہ ہی نہیں

افسوس کی بات یہ ہے کہ جس شخص کو وزیر اعظم کی کرسی کا دعویدار مانا جا رہا تھا اسے اب یہ تک اندازہ نہیں ہے کہ اس کا سیاسی قد کتنا گر گیا ہے کہ انہیں پرشانت کشور جیسے شخص پر بھروسہ کرنا پڑ رہا ہے۔

لالو یادو، ملائم سنگھ یادو، مرحوم کرونا ندھی، ان تینوں رہنماؤں کے بھی باقی سبھی سیاست دانوں کی طرح اپنی اپنی پارٹی آر جے ڈی، سماجوادی پارٹی اور ڈی ایم کے کی ترقی کو لے کر کچھ ذاتی مفادات رہے ہیں کیونکہ ان تینوں رہنماؤ ں کی پارٹیوں میں ان کا خاندان شامل ہے اس لئے ہر حال میں انہوں نے اپنی پارٹیوں کو زندہ رکھا ہے۔

اس کے برعکس بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کا اپنی سیاسی پارٹی سے کوئی جذباتی لگاؤ نہیں ہے اس لئے انہیں اس کے مستقبل کو لے کر زیادہ فکر بھی نہیں ہے۔ ان کے خاندان کا کوئی فرد سیاست میں بھی نہیں ہے۔ اب وہ وقت دور نہیں جب پارٹی کے رہنما اور کارکن بھی اس حقیقت سے روشناس ہو جائیں گے اور وہ آواز اٹھانا شروع کر دیں گے۔

اگر غور کیا جائے تو جے ڈی یو کا مستقبل کچھ تمل ناڈو کی اے آئی ڈی ایم کے کی طرح نظر آتا ہے جس کو جے للیتا کے انتقال کے بعد زندہ بچائے رکھنا بھی ایک مسئلہ بن گیا ہے۔

جس طرح نتیش کمار نے پرشانت کشور کو پارٹی کا نائب صدر بنایا ہے اس سے پارٹی کی اعلی قیادت اور عام کارکن میں زبردست بے چینی نظر آ رہی ہے اور ان کے ذہن میں سوال آرہا ہے کہ آنے والے سالوں میں جے ڈی یو کا کیا ہوگا؟۔

نتیش کمار کچھ بھی ہوں لیکن وہ اپنی حدود سے اچھی طرح واقف ہیں۔ ان کے عوامی قائد ہونے کے دعوے کی سال 2014 کے انتخابات میں ہی ہوا نکل گئی تھی کیونکہ اس میں وہ محض 16 فیصد ووٹ ہی حاصل کر پائے تھے اور لوک سبھا کی صرف دو سیٹیں ہی حاصل ہوئیں تھیں۔

سال 2014 میں سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ جب مغربی بنگال میں ممتا بنرجی اور اڈیشہ میں نوین پٹنائک پر مودی لہر کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا تو پھر نتیش کمار پر کیوں ہوا تھا جبکہ دعوی یہ تھا کہ انہوں نے بہار کے لئے بہت کچھ کیا ہے لیکن اس دعوے کے با وجود وہ ممتا اور نوین پٹنائک کی طرح اپنا قلع نہیں بچا پائے تھے۔

سال2014 کے نتائج کے بعد سے نتیش کمار صرف اپنی سیاسی ساکھ بچانے میں مصروف ہیں اور انہوں نے جو کچھ کیا اپنے لیا کیا، پارٹی کو مضبوط کرنے کے لئے کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے پہلے عظیم اتحاد کا حصہ بن کر لالو یادو سے ہاتھ ملایا اور بعد میں لالو کو ہی غلط ٹھہرا کر بی جے پی سے ہاتھ ملا لیا۔

ویسے جے ڈی یو کو خارج کرنا تھوڑا جلد بازی ہو گا لیکن پارٹی کے کارکنا ن اور رہنما اس بات کو سمجھنے لگے ہیں کہ نتیش کمار پارٹی کو مضبوط کرنے کے بجائے خود کو مضبوط کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پارٹی میں نمبر دو کی حیثیت رکھنے والے راجیہ سبھا رکن آر سی پی سنگھ کبھی عوامی رہنما نہیں بن سکتے، وہ ایک افسر تھے اور ان کا مزاج بھی ایک افسر والا ہی ہے پھر بھی پرشانت کشور کے مقابلہ وہ بھاری ہیں۔ وہ نتیش کی کرمی ذات سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے ہی ضلع نالندہ کے رہنے والے ہیں۔ بہار میں کرمی سماج کو جے ڈی یو کا ووٹ بینک اسی طرح مانا جاتا ہے جیسے یادو کو آر جے ڈی کا مانا جاتا ہے، دوسری جانب پرشانت کشور ایک براہمن ہیں۔

نتیش کمار جب سال2005 میں بہار کے وزیر بنے تھے تو ان کی شبیہ بہت اچھی تھی۔ 16 جون 2003 تک بی جے پی سے رشتہ توڑنے تک ان کا گراف اوپر جاتا رہا۔ جس طرح انہوں نے بی جے پی کے بڑے رہنماؤں کے لئے رکھے گئے ڈنر میں شرکت نہ کر کے ان سے ناتا توڑا تھا اس کے بعد سے وہ ایسے رہنما بن گئے ہیں جس کے بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ نتیش کمار عوامی رہنماؤں کی جگہ صرف راجیہ سابھا کے رہنماؤ ں کو ہی پارٹی میں لاتے رہے ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ جس شخص کو وزیر اعظم کے عہدے کا سب سے مضبوط دعویدار سمجھا جاتا تھا اس کے لئے پرشانت کشور پر بھروسہ کرنا اس لئے مجبوری بن گئی کیونکہ پرشانت کشور کے بی جے پی کی اعلی قیادت سے اچھے تعلقات ہیں۔ نتیش کمار کو یہ اندازہ ہی نہیں ہے کہ ان کا سیاسی قد کتنا گر گیا ہے۔

سب سے زیادہ مقبول