مسلمانوں کا سماجوادی پارٹی کی طرف جھکاؤ بی جے پی کے لیے تقویت بخش: الیاس اعظمی

الیاس اعظمی نے کہا کہ مسلمانوں کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ حالات پر گہری نظر رکھیں اور سیکولر ذہن کے ہندوؤں، خصوصاً دلت، بیک ورڈ اور پچھڑوں کو ساتھ لے کر کو ئی مضبوط حکمت عملی بنائیں۔

الیاس اعظمی، تصویر ٹوئٹر @iliyas_azmi
الیاس اعظمی، تصویر ٹوئٹر @iliyas_azmi
user

یو این آئی

لکھنؤ: سابق رکن پارلیمنٹ و پیپلز جسٹس پارٹی کے قومی صدر الیاس اعظمی نے آج یہاں دعوی کیا کہ مسلمانوں کا سماج وادی پارٹی کی طرف جھکاؤ بی جے پی کے لئے تقویت بخش ہے لہذا اترپردیش کے مسلمان نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے بہکاوے میں آنے کے بجائے دلتوں و پچھڑوں کے ساتھ اتحاد کر کے ملک کی تقدیر بدلنے کو آگے آئیں۔

الیاس اعظمی نے کہا کہ ملک اور صوبے کے مسلمانوں کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ حالات پر گہری نظر رکھیں اورسیکولر ذہن کے ہندوؤں، خصوصاً دلت، بیک ورڈ اور پچھڑوں کو ساتھ لیکر کوئی مضبوط حکمت عملی بنائیں، تاکہ بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کیا جاسکے، اور کسی بھی نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے بہکاوے میں نہ آئیں، اور اپنے آپ کو صرف ووٹر تک محدود نہ رکھیں بلکہ دانشور اور پالیسی سازوں میں اپنی جگہ بنائیں، مسلمانوں کی طرف سے لیا گیا سوجھ بوجھ اور حکمت عملی کا فیصلہ ملک اور صوبے کی تقدیر بدل دے گا۔


الیاس اعظمی نے مسلمانوں سے مزید کہا کہ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنے قیمتی ووٹوں کا استعمال کریں، اور توازن بنائے رکھیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کے اتحاد سے بی جے پی اور اس کا ووٹر متحد ہوجائے، جس کا نقصان ملک اور صوبے کے عوام کو آگے پانچ سالوں تک دوبارہ اٹھانا پڑے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ غیر یادو، بیک ورڈ اور پچھڑوں کا یہ ماننا ہے کہ اگر مسلمان پوری طرح سماج وادی پارٹی کی طرف جھکتا ہے اور اپنے ووٹوں کو سماج وادی کو منتقل کرتا ہے تو ہم اپناووٹ بی جے پی کی طرف منتقل کریں گے، کیوں کہ ہم کسی ایک ذات برادری کو ملائی اکیلے نہیں کھانے دیں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔