یہ ہے اصل کشمیریت، کشمیری پنڈت خاتون کی آخری رسومات میں مسلمان رہے پیش پیش

72 سالہ شیشی رینہ کی آخری رسومات میں بیسیوں مقامی افراد بالخصوص نوجوانوں نے شرکت کی اور نم آنکھون سے آنجہانی پنڈت خاتون کو رخصت کیا۔

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

یو این آئی

سری نگر: جنوبی ضلع پلوامہ کے ترال علاقے میں مقامی مسلمانوں اور سکھوں نے مذہبی ہم آہنگی، اتحاد، انسانیت نوازی اور کشمیریت کی عمدہ مثال قائم کی ہے جہاں وہ ایک معمر کشمیری پنڈت خاتون شیشی رینہ زوجہ ناتھ جی رینہ کی آخری رسومات انجام دینے میں پیش پیش رہے۔ آخری رسومات میں بیسیوں مقامی افراد بالخصوص نوجوانوں نے شرکت کی اور نم آنکھون سے آنجہانی پنڈت خاتون کو رخصت کیا۔

یو این آئی اردو کے نامہ نگار نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ضلع پلوامہ کے ترال میں ناتھ جی رینہ کا یہ خاندان اُن سینکڑوں کشمیری پنڈت خاندانوں میں ایک ہے جو گزشتہ تین دہائیوں کے نامساعد حالات کے دوران بھی کشمیر میں ہی مقیم رہے اور اپنے ہمسایہ مسلم برادری کے دُکھ سُکھ میں شامل حال رہے۔ گزشتہ شام جب 72 سالہ شیشی رینہ کا انتقال ہوا، تو اس گاوں کے بیسیوں مسلمان اور سکھ اُن کی آخری رسومات انجام دینے میں پیش پیش رہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ ’گزشتہ شام جب معمر خاتون شیشی رینہ کے انتقال کر جانے کی خبر گاوں میں پھیل گئی تو درجنوں کی تعداد میں مرد، زن، بچے اور بوڑھے ان کے گھر پر پہنچ گئے‘۔


مقامی مسلمانوں نے منگل کے روز نہ صرف اپنے پنڈت بھائیوں کے شانہ بشانہ آنجہانی کی آخری رسومات سر انجام دیں بلکہ اُن کی ارتھی کو اپنے کندھوں پر اُٹھانے کے علاوہ چتا کو آگ لگانے کے لئے درکار لکڑی اور دوسری چیزیں مہیا کیں۔ آنجہانی کے ایک رشتہ دار کاکا جی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’کشمیری پنڈتوں اور مسلمانوں کے ساتھ ساتھ سکھوں نے مل کر شیشی رینہ نامی خاتون کی آخری رسومات انجام دی ہیں‘۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم سب نے مل کر ان کی آخری رسومات ادا کردی ہیں، یہاں کی مقامی مسلم برادری نے آخری رسومات کے لئے درکار ہر چیز فراہم کی‘۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’میڈیا میں پھیلایا جاتا ہے کہ کشمیر میں آپسی بھائی چارہ ختم ہو رہا ہے، ہم ان سے کہنا چاہتے ہیں کہ کشمیر کے بھائی چارے میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ مل کر یہاں اپنی زندگی گزر بسر کرنا چاہتے ہیں‘۔

آنجہانی کے ایک اور رشتہ دار نے بتایا کہ ' شیشی رینہ کی کل شام موت واقع ہوئی۔ مقامی مسلمانوں نے رات کے دوران ہی لکڑی وغیرہ کا انتظام کیا۔ انہوں نے آخری رسومات ادا کرنے میں ہماری کافی مدد کی'۔ اس موقع پر سٹیزن کونسل ترال کے سربراہ فاروق ترالی نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ ’مذکورہ خاتون کے گھر والوں نے ہجرت نہیں کی تھی اور یہ کہ ترال کے مسلم برادری کے ساتھ ساتھ سکھوں نے خاتون کی آخری رسومات میں بڑھ چڑھ کر شمولیت اختیار کی‘۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ترال ہمیشہ بھائی چارے کا مرکز رہا ہے اور آج لوگوں نے پنڈت خاتون کی آخری رسومات میں شرکت کرکے اس کا ثبوت بھی فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب نے مل کر آنجہانی کی آخری رسومات انجام دی ہیں ، جو پنڈت یہاں سے ہجرت کر چکے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ وہ واپس آجائیں۔ ہم ان کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔


یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کشمیر میں سال 1990میں مسلح شورش شروع ہونے کے ساتھ ہزاروں پنڈت اپنے گھر چھوڑ کر بھارت کے مختلف حصوں میں مقیم ہو گئے۔ تاہم سینکڑوں کنبوں نے ہجرت نہیں کی اور یہیں مقیم رہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔