کورونا وائرس: ممبئی میں مسلم شخص کو نذر آتش کیا گیا، مسلمانوں میں سخت غم و غصہ

لاش کو اس کے فرزند کی موجودگی میں نذر آتش کر دیا گیا۔ اس واقعہ کے سبب ممبئی سمیت ریاست کے مسلمانوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

ممبئی: عروس البلاد ممبئی کے مضافات میں گزشتہ کل ایک مسلم عمر رسیدہ شخص کے کورونا وائرس کی بیماری کے سبب انتقال کے بعد مقامی مالونی قبرستان کی انتظامیہ نے اسے تدفین کرنے سے انکار کر دیا، جس کے بعد اس کی لاش کو اس کے فرزند کی موجودگی میں نذر آتش کر دیا گیا۔ اس واقعہ کے سبب ممبئی سمیت ریاست کے مسلمانوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے-

یو این آئی اردو نے ذرائع کے حوالہ سے بتایا کہ گزشتہ صبح کورونا وائرس سے متاثرہ شخص کی موت کے بعد جب اس کے صاحبزادے نے اپنے والد کی لاش کو مالونی قبرستان میں تدفین کرنے کی کوشش کی تو قبرستان کے ٹرسٹیوں نے یہاں پر اس شخص کی تدفین کرنے سے انکار کر دیا -

بتایا جاتا ہے کہ مرنے والے مسلم شخص کے بیٹے نے و کچھ مقامی لوگوں نے قبرستان کے ٹرسٹیوں کو کافی سمجھایا کہ وہ لاش کو یہاں پر دفن کرنے دے دیں لیکن یہاں کے ٹرسٹی ٹس سے مس نہیں ہوئے اور انہوں نے یہاں قبرستان میں کورونا وائرس میں مبتلا مسلم شخص کی لاش کو دفن نہیں ہونے دیا -

یہ سب ماجرہ دیکھ کر وہاں پر موجود پولیس والوں نے ٹرسٹیان کو بھی سمجھانے کی کوشش کی جس کے جواب میں ٹرسٹیوں نے ئیت کو قبرستان میں دفن نہ کرنے دینے کا یہ جواز پیش کیا کہ مالونی قبرستان چھوٹا ہے اور اطراف میں رہائشی علاقہ ہیں نیز کورونا وائرس کے جراشیم اطراف کی بستیوں میں بھی پھیل سکتے ہیں لہذا قبرستان میں تدفین کی اجازت نہیں دی جا سکتی -

اطلاعات کے مطابق اس درمیان متوفی کے رشتہ دار نے مقامی عوامی نمائندوں سے بھی رابطہ قائم کیا لیکن کوئی اطمینان بخش جواب نہیں حاصل ہوا آخر میں پولیس نے لڑکے کو سمجھایا اور کہا کہ تھوڑی دور پر واقع شمشان بھومی میں وہ اپنے والد کی لاش کو نذر آتش کر دے جس کے بعد کافی سمجھانے کے بعد بیٹا مان گیا اور پھر صبح میں دس بجے کے قریب مسلم شخص کی لاش کو نذر آتش کر دیا گیا جس کے بعد ہی مسلم علاقوں میں اس معاملے کو لیکر کافی بے چینی دیکھی گئی -

    Published: 2 Apr 2020, 7:26 PM