جذبات مشتعل کر بی جے پی کو فائدہ پہنچانے والوں سے مسلم طبقہ ہوشیار رہے: ڈاکٹر ایوب سرجن

ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے پیس پارٹی سے خطرہ سمجھ کر صرف ایک اشتہار کی بنیاد پر انہیں جیل بھیج کر این ایس اے لگا دیا اور ایک پارٹی وہ ہے جو کھلے عام جذبات کو بھڑکا رہی ہے۔

ڈاکٹر ایوب سرجن، تصویر ٹوئٹر@ppayub
ڈاکٹر ایوب سرجن، تصویر ٹوئٹر@ppayub
user

یو این آئی

پرتاپ گڑھ: مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے کے لئے ایک پارٹی مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکا کر ان کے ووٹ کاٹ کر بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے لئے کوشاں ہے، جس سے مسلمانوں کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے اور اپنے ووٹ ایسی پارٹی کو دینے سے پرہیز ضرور کریں۔ ہم سبھی کو مسلم قیادت کے بجائے مبینہ سیکولر و بی جے پی کی پالیسیوں و مسلم مخالف طریقہ کار کے خلاف مہم چلانا ہے کیوںکہ انہیں سے مسلم و سیکولر ووٹ منسلک ہے۔ پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے میڈیا کو جاری بیان میں مذکورہ تاثرات کا اظہار کیا۔

ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے پیس پارٹی سے خطرہ سمجھ کر صرف ایک اشتہار کی بنیاد پر انہیں جیل بھیج کر این ایس اے لگا دیا اور ایک پارٹی وہ ہے جو کھلے عام جذبات کو بھڑکا رہی ہے۔ اس کے خلاف کوئی کارروائی اس لئے نہیں کی جارہی ہے کہ بی جے پی کو اس پارٹی سے فائدہ ہے۔ مذکورہ پارٹی مسلمانوں کی ہمدرد ہونے کا دعوی تو کرتی ہے، مگر دیگر مسلم پارٹیوں کے ساتھ مل کر انتخاب لڑنا نہیں چاہتی۔ اس پارٹی کا مقصد جذبات بھڑکا کر ووٹ کاٹ کر بی جے پی کو فائدہ پہنچانا ہے۔


انہوں نے کہا کہ پیس پارٹی کے بغیر کسی بھی سیکولر پارٹی کے لئے زیر اقتدار آنا ممکن نہیں۔ یہ دیکھا جا رہا ہے کہ اس مرتبہ مبینہ سیکولر پارٹیاں مسلمانوں کے درمیان نہ جا کر وہ بی جے پی کی راہ پر گامزن ہیں۔ وہ مسلمانوں کا نام لینے سے خوفزدہ ہیں کہ کہیں ان سے ہندو ووٹ ناراض نہ ہو جائے، جبکہ یہاں کی 85 فیصدی عوام سیکولر ہے۔ پیس پارٹی کی کھلی پالیسی سب کو ساتھ لے کر چلنے کی ہے، پیس پارٹی کسی کے جذبات کو بھڑکانے کی سیاست نہیں کرتی بلکہ سب کا احترام کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیس پارٹی کے ساتھ سبھی ذات و مذہب کے لوگ ہیں لیکن ایک پارٹی وہ ہے جو گھوم گھوم کر جذبات کو بھڑکا کر مسلمانوں کو مشتعل کرنے کا کام کر رہی ہے، اس کا صرف ایک ہی مقصد ووٹ کاٹ کر بی جے پی کو فائدہ پہنچانا ہے۔ انہوں نے عوام خصوصی طور سے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جذبات کو بھڑکانے والوں کی مخالفت کر اپنا ووٹ مذکورہ پارٹی کو دینے سے پرہیز کریں۔ ایسا نہ ہو کی جذبات میں بہہ کر پھر پچھتانا پڑے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔