مرادآباد: پولیس کی متعصبانہ کارروائی، اقلیتوں میں ناراضگی

کوارنٹائن کی کارروائی کو لے کر اقلیتی طبقہ میں یہ خبریں لگاتار آ رہی ہیں کہ کوارنٹائن سینٹروں میں معقول انتظام نہیں ہے بلکہ اقلیتوں کے ساتھ متعصبانہ کارروائی ہو رہی ہے جس کو لے کر خاصی ناراضگی ہے۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز
user

ناظمہ فہیم

مرادآباد: محلہ پیر زادہ میں کنٹرول پر راشن لینے گئے ایک شخص کو پولیس نے بے رحمی سے پیٹا، پولیس کی اس بر بریت کا شکار محمد سبحان اور کی نو عمر بیٹی بھی ہوئی۔ دونوں پولیس کی مار سے بری طرح زخمی ہو گئے۔ دوسری طرف نواب پورہ میں اس وقت ہنگامہ برپا ہو گیا جب میڈیکل ٹیم نواب پورہ کے حاجی نیب مسجد کے نزدیک کچھ لوگوں کو کوارنٹائن کرانے کے لئے پہنچی۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں کورونا وائرس کے زد میں آ کر 49 سالہ سرتاج کی موت ہو گئی تھی، ان دونوں واقعات نے شہر کے ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے۔

مرادآباد: پیر زادہ محلہ میں پولیس کی مار سے زخمی محمد سبحان اور اس کی بیٹی
مرادآباد: پیر زادہ محلہ میں پولیس کی مار سے زخمی محمد سبحان اور اس کی بیٹی

محلہ پیر زادہ میں اس وقت یہ معاملہ سامنے آیا جب صبح کنٹرول ریٹ کی دکان پر راشن لینے کے لئے لائن لگی ہو ئی تھی، اسی علاقے کا محمد سبحان اپنی بیٹی اور اہلیہ کے ساتھ راشن لینے کے لئے پہنچا۔ محکمہ سپلائی کے افسر کی جانب سے یہ سسٹم بنایا گیا تھا کہ پچاس لوگوں کو ٹوکن دے کر پہلے راشن دیا جائے اس کے بعد پھر پچاس لوگوں کو ٹوکن دیئے جائیں تاکہ سوشل ڈسٹنسنگ کا نظام بنا رہے۔ محمد سبحان کو ٹوکن نہیں مل پایا تھا جس کی وجہ سے اس سے کہا گیا کہ تم اگلے دن راشن لینے آ جانا، جس کو لے کر کہا سنی ہو گئی۔

قانونی نفاذ کو قائم رکھنے کی غرض سے ہر سستہ غلہ کی دکان پر پولیس کے جوانوں کی تعیناتی کی گئی ہے۔ پولیس پر الزام ہے کہ یہاں موجود پولیس جوانوں نے اپنا آپا کھو دیا اور محمد سبحان و اس کی بیٹی کو بری طرح مارا پیٹا۔ جس کی وجہ سے یہاں بھیڑ جمع ہو گئی۔ اطلاع پاکر حلقہ کے انچارج وہاں پہنچے اور کسی طرح انہوں نے معاملہ کو رفع دفع کیا۔

سابق ایم ایل اے حاجی یوسف انصاری جن کی رہائش گاہ بھی اسی علاقہ میں ہے، انہوں نے پولیس کی اس حرکت پر سخت ناراضگی جتائی اور کہا کہ زیادہ تر پولیس کے جوان اس وقت لوگوں کی خدمت میں رات دن ایک کیے ہوئے ہیں مگر چند ایسے پولیس اہلکاروں کی وجہ سے جو انسانیت کو بالائے طاق رکھ کر غریبوں پر تشدد کر رہے ہیں ان کی وجہ سے سبھی پولیس والوں کی محنت رائگاں ہو رہی ہے، جو اپنا گھر بار اور آرام چھوڑ کر اس موقع پر اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔ حاجی یوسف نے اعلیٰ افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسی چھوٹی سوچ والے پولیس کے جوانوں کو سمجھائیں کہ یہ وقت غریبوں پر اپنی بھڑاس نکالنے کا نہیں ہے۔

ادھر، نواب پورہ میں پولیس اور طبی عملہ پر پتھراؤ کیا گیا، یہاں کورونا کے چلتے جس شخص کی موت ہوئی تھی اس کے گھر والوں کو پولیس ٹیم نے پہلے ہی اپنی تحویل میں لے کر کوارنٹائن سینٹر میں منتقل کر دیا تھا، صبح جب ان کے پڑوسیوں کو کوارنٹائن سینٹر لے جانے کے لئے جب محکمہ صحت کی ٹیم پہنچی تو وہاں موجود لوگوں نے کہا کہ ان لوگوں کو انہیں کے گھروں میں کوارنٹائن کرایا جائے، کیونکہ کوارنٹائن سینٹروں میں معقول انتظام نہ ہونے کی وجہ سے پریشانیوں کا سامنا ہے۔

مرادآباد: پولیس کی متعصبانہ کارروائی، اقلیتوں میں ناراضگی

سوشل میڈیا پر اس طرح کی خبریں لگاتار چل بھی رہیں ہیں جس کی وجہ سے لوگ کوارنٹائن سینٹروں میں جانے سے ہچکچا رہے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ محکمہ صحت کی ٹیم نے ان لوگوں کی یہ بات نہیں سنی جس کے چلتے وہاں موجود بھیڑ آپے سے باہر ہو گئی اور محکمہ صحت کی ٹیم اور ان کے ساتھ موجود پولیس والوں پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ جس کے بعد بڑی تعداد میں پولیس فورس وہاں پہنچی اور بھڑ کے لوگوں کو قابو کرنے کے لئے لاٹھی چارچ کیا جس کی وجہ سے کئی لوگوں کو چوٹیں بھی آئیں۔

پولیس کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچا اور کئی پولیس اہلکاروں کے ساتھ ساتھ محکمہ صحت کے لوگ بھی زخمی ہوئے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان لوگوں کو کوارنٹائن سینٹر پہنچایا جن کی محکمہ صحت کی طرف سے نشاندہی کی گئی تھی۔ پولیس نے اس معاملہ کی کارروائی کرتے ہوئے ایف آر درج کرلی ہے اور ڈرون کیمروں سے ایسے لوگوں کی نشاندہی کرتے ہوئے گرفتاری کی جا رہی ہے۔ کوارنٹائن کی کارروائی کو لے کر اقلیتی طبقہ میں یہ خبریں لگاتار آ رہی ہیں کہ کوارنٹائن سینٹروں میں معقول انتظام نہیں ہے بلکہ اقلیتوں کے ساتھ متعصبانہ کارروائی ہو رہی ہے جس کو لے کر اقلیتوں میں خاصی ناراضگی ہے۔

next