مانسون اجلاس: پیگاسس، مہنگائی اور کسان تحریک پر پھر ہنگامہ، لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی

پیگاسس جاسوسی معاملہ اور تینوں زرعی قوانین کے حوالہ سے لوک سبھا میں مانسون اجلاس کے 9ویں دن بھی حزب اختلاف اور حکومت کے درمیان تعطل برقرار رہا اور ایوان کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کر دی گئی

مانسون اجلاس / ٹوئٹر
مانسون اجلاس / ٹوئٹر
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: پیگاسس جاسوسی معاملہ اور تینوں زرعی قوانین کے حوالہ سے لوک سبھا میں مانسون اجلاس کے 9ویں دن بھی حزب اختلاف اور حکومت کے درمیان تعطل برقرار رہا۔ حزب اختلاف کی جانب سے زبردست ہنگامہ کئے جانے کے بعد ایوان زریں کی کارروائی ایک مرتبہ التوا کے بعد دن بھر کے لئے ملتوی کر دی گئی۔

دریں اثنا، کانگریس سمیت کئی سیاسی جماعتوں نے پیگاسس جاسوسی معاملہ پر فوری بحث کرانے کا مطالبہ کیا جبکہ حکومت نے اس مطالبہ کر خارج کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی ایشو نہیں ہے۔

ایوان میں شور و غل کے درمیان ہی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے ’عام بیمہ کاروبار (نیشنلائیزیشن) ترمیمی بل 2021 پیش کیا۔ جبکہ جنگلات و ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے وزیر بھوپندر یادو نے ’قومی راجدھانی خطہ اور ملحقہ علاقوں میں فضائی بہتری انتظامات کے لئے کمیشن 2021 پیش کیا۔

آج صبح کارروائی شروع ہونے پر کانگریس سمیت کئی حزب اختلاف کے ارکان نے نعرے بازی شروع کر دی۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے شور شرابے کے درمیان ہی آدھے گھنٹے تک وقفہ سوالات کی کارروائی کو چلایا۔ حزب اختلاف کے ارکان کا ہنگامہ جاری رہنے پر اوم برلا نے کارروائی کو 12 بجے تک کے لئے ملتوی کر دیا۔


کارروائی شروع ہونے پر کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ ہم پہلے دن سے ہی پیگاسس جاسوسی معاملہ پر بحث کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ یہ کسانوں کا مسئلہ اور کورونا بھی بحث کا موضوع ہے لیکن حکومت اس پر بحث کرانے کو تیار نہیں ہے۔

پیگاسس جاسوسی معاملہ پر بحث کرانے کے اپوزیشن کے مطالبہ پر پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے کہا کہ یہ کوئی موضوع نہیں ہے۔

اس کے بعد لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے حزب اختلاف کے ارکان کے شور شرابے اور نعرے بازی کے درمیان تقریباً آدھے گھنٹے تک وقفہ سوالات چلایا۔ اس دوران حزب اختلاف کے ارکان نے ہاتھوں میں تختیاں تھیں، جن پر تین زرعی قوانین کو ختم کرنے اور پیگاسس معاملہ کی جانچ کرانے سے متعلق مطالبات تحریر کئے گئے تھے۔

اس کے بعد 12 بجے کارروائی شروع ہونے پر بھی صورت حال جوں کی توں برقرار رہی۔ پریزائڈنگ چیئرمین راجندر اگروال نے شور شرابے کے بیچ ہی ضروری کاغذات پیش کئے گئے۔ اس دوران بیمہ اور ماحولیات سے متعلق بلوں کو پیش کیا گیا۔ اس کے بعد راجندر اگروال نے حزب اختلاف کے ارکان سے اپنی نشستوں پر واپس جانے اور کارروائی میں حصہ لینے کی اپیل کی۔


انہوں نے کہا کہ اہم بل پیش کئے گئے ہیں اور کورونا کے معاملہ پر بھی بحث ہونی ہے، لہذا بحث میں حص لیں۔ تاہم حزب اختلاف کے ارکان کی ہنگامہ آرائی جاری رہی۔ حالات کے پیش نظر پریزائڈنگ چیئرمین نے ایک بات کے التوا کے بعد کارروائی کو دن بھر کے لئے ملتوی کر دیا۔ ہفتہ اور اتوار کو چھٹی ہونے کے سبب اب ایوان کی اگلی نشست پیر کے روز منعقد ہوگی۔

خیال رہے کہ حزب اختلاف کے ارکان پیگاسس جاسوسی معاملہ اور مرکزی کے تین نئے زرعی قوانین کو واپس لینے کے مطالبہ پر موجودہ اجلاس کے پہلے دن سے اوان میں نعرے بازی کر رہے ہیں۔ اس وجہ سے ایوان میں اب تک کام رخنہ کا شکار رہا ہے اور کارروائی باضابطہ طور پر نہیں چل پا رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے شور شرابے کے دوان ہی کچھ بلوں کو منظور کرایا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔