مودی حکومت نے 2029 تک خاتون ریزرویشن کے دروازے بند کر دیے: کھڑگے

ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ سیاست میں جس طرح ایس سی/ایس ٹی طبقہ کو آئینی مواقع ملے ہیں، اسی طرح او بی سی طبقہ کی خواتین سمیت سبھی کو اس بل میں یکساں موقع ملنا چاہیے۔

ملکارجن کھڑگے / آئی اے این ایس
ملکارجن کھڑگے / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

منگل کے روز نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں راجیہ سبھا کے لیے پہلا کام کا دن رہا۔ نئی پارلیمنٹ میں راجیہ سبھا کے پہلے اجلاس میں پی ایم مودی نے ’ناری شکتی وندن ایکٹ‘ (خاتون ریزرویشن بل)، جی-20، ملک کی نئی پارلیمنٹ اور پرانی پارلیمنٹ جیسے اہم موضوعات کا تذکرہ کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ میں آج یہاں راجیہ سبھا کے سبھی ساتھیوں سے گزارش کرنے آیا ہوں کہ جب بھی خاتون ریزرویشن بل ہمارے سامنے آئے تو آپ سب متفقہ طور پر اس معاملے میں فیصلہ کریں۔

اس کے بعد راجیہ سبھا میں حزب مخالف لیڈر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ خاتون ریزرویشن بل کی ہم نے ہمیشہ حمایت کی ہے۔ 2010 میں راجیہ سبھا میں کانگریس-یو پی اے حکومت نے خاتون ریزرویشن بل پاس کروایا تھا۔ کھڑگے نے کہا کہ سیاست میں جس طرح ایس سی/ایس ٹی طبقہ کو آئینی موقع ملا ہے، اسی طرح او بی سی طبقہ کی خواتین سمیت سبھی کو اس بل سے یکساں موقع ملنا چاہیے۔


حزب مخالف لیڈر نے کہا کہ مودی حکومت جو بل لائی ہے، اس کو غور سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ بل کے موجودہ مسودہ میں لکھا ہے کہ یہ 10 سالہ مردم شماری اور ڈیلمیٹیشن کے بعد ہی نافذ کیا جائے گا۔ کھڑگے نے کہا کہ اس کا مطلب صاف ہے کہ مودی حکومت نے شاید 2029 تک خاتون ریزرویشن کے دروازے بند کر دیے ہیں۔ بی جے پی کو اس پر وضاحت دینی چاہیے۔

کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے بھی خاتون ریزرویشن بل کو لے کر حکومت پر حملہ کیا اور کہا کہ یہ بل سب سے بڑے انتخابی جملوں میں سے ایک ہے۔ انھوں نے اپنے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ ’’انتخابی جملوں کے اس موسم میں یہ سبھی جملوں سے بڑا ہے۔ کروڑوں ہندوستانی خواتین اور لڑکیوں کی امیدوں کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہوا ہے۔‘‘ جئے رام رمیش نے حکومت پر طنز کستے ہوئے کہا ہے کہ ’’جیسا ہم نے پہلے بتایا تھا، مودی حکومت نے ابھی تک 2021 کی دہائی کی مردم شماری نہیں کرائی ہے، جس سے ہندوستان جی-20 میں واحد ملک بن گیا ہے جو مردم شماری کرانے میں ناکام رہا۔‘‘


اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے راجیہ سبھا رکن جئے رام رمیش کہتے ہیں کہ ’’اس (بل) میں کہا گیا ہے کہ خاتون ریزرویشن بل کے ایکٹ بننے کے بعد کرائی جانے وال پہلی ڈیکیڈ مردم شماری کے بعد ہی خواتین کے لیے ریزرویشن نافذ ہوگا۔ یہ مردم شماری کب ہوگی؟‘‘ کانگریس لیڈر مزید کہتے ہیں کہ بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریزرویشن اگلی مردم شماری کی اشاعت اور اس کے بعد ڈیلمیٹیشن کا عمل انجام پانے کے بعد ہی اثر انداز ہوگا۔ کیا 2024 کے انتخاب سے پہلے مردم شماری اور ڈیلمیٹیشن کا عمل انجام دیا جائے گا؟ جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر یہ بل اپنے نفاذ کی تاریخ کے بہت غیر واضح وعدے کے ساتھ آج سرخیوں میں ہے۔ یہ کچھ اور نہیں بلکہ ایونٹ مینجمنٹ ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


;