مودی حکومت نے پارلیمنٹ میں جھوٹ بولا، ہمارے 20 لیڈران ہنوز نظربند: پی ڈی پی

ہانجورہ کا کہنا ہے کہ "میں نے تہیہ کیا تھا کہ میں آج نکلوں گا اور یوتھ ونگ کی میٹنگ میں شرکت کروں گا۔ میں ساڑھے تیرہ ماہ بعد گھر سے نکلا ہوں۔ پوری دنیا کو پتہ چلنا چاہیے کہ یہ کتنا جھوٹ بولتے ہیں۔"

غلام نبی لون ہانجورہ (پی ڈی پی لیڈر)
غلام نبی لون ہانجورہ (پی ڈی پی لیڈر)
user

یو این آئی

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے جنرل سکریٹری غلام نبی لون ہانجورہ نے مودی حکومت پر پارلیمنٹ میں جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری جماعت کے تقریباً 20 لیڈران ہنوز نظر بند ہیں، اور وزارت داخلہ کا پارلیمنٹ میں بیان کہ 'کشمیر میں کوئی بھی لیڈر نظر بند نہیں ہے' بے بنیاد ہے۔

ہانجورہ نے بدھ کے روز پارٹی کی یوتھ ونگ کی ایک میٹنگ میں شرکت کرنے کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ "ابھی ہمارے تقریباً 20 لیڈران نظر بند ہیں۔ اس کے علاوہ ہماری صدر محبوبہ مفتی جی پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت بند ہیں۔" پی ڈی پی جنرل سکریٹری نے کہا کہ وہ خود ساڑھے تیرہ ماہ بعد اپنی رہائش گاہ پر تعینات سیکورٹی فورسز اہلکاروں کو چکما دے کر باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

ہانجورہ نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ "کل پارلیمنٹ میں وزارت داخلہ کی طرف سے بیان آیا کہ ہم نے کشمیر میں کسی بھی لیڈر کو نظر بند نہیں رکھا ہے۔ اس جواب کے تناظر میں ہم نے آج گھر سے نکلنے کی کوشش کی۔ حالانکہ سیکورٹی والوں نے مجھے اپنے گیٹ پر روکا بھی لیکن میں انہیں چکما دے کر یہاں پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔ میں یہاں بغیر سیکورٹی کے آیا ہوں۔ کوئی پی ایس او میرے ساتھ نہیں ہے۔ میں پرائیویٹ گاڑی میں آیا ہوں۔"

ہانجورہ کا مزید کہنا تھا کہ "پارلیمنٹ میں بیان دینے کے باوجود آج ہمارے کئی لیڈروں کو باہر آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ میں چوری چھپے یہاں پہنچا ہوں۔ میں نے تہیہ کیا تھا کہ میں آج نکلوں گا اور یوتھ ونگ کی میٹنگ میں شرکت کروں گا۔ میں ساڑھے تیرہ ماہ بعد گھر سے نکلا ہوں۔ پوری دنیا کو پتہ چلنا چاہیے کہ یہ کتنا جھوٹ بولتے ہیں۔"

next