زبان سنبھال کے...

فلم اداکارہ کنگنا رناوت نے ممبئی پہنچ کر جو ویڈیو جاری کیا اور اس میں مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کو جس طرح خطاب کیا وہ انتہائی نازیبا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آواز تجزیہ

اختلافات سیاسی ہوں یا ذاتی لیکن ان اختلافات میں زبان کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ آپ کی بات کتنی بھی صحیح ہو لیکن اگر اس کو پیش کرنے کا طریقہ اچھا نہیں ہے تو آپ کی بات کی تمام اہمیت اور حقیقت صفر ہو جاتی ہے۔ قومی میڈیا پر 24 گھنٹے مقابلہ کا جو دباؤ ہے اس میں وہ خود بھی کچھ حدود پار کر رہی ہے اور کچھ ان کو دیکھ کر ٹی وی پر آنے والے مہمان بھی یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ کا سماج اور اگلی نسل پر کیا اثر پڑے گا۔

پچھلے کچھ دنوں سے ریا چکرورتی اور کنگنا رناوت سے ٹی وی والوں کو فرصت نہیں مل رہی ہے۔ کنگنا نے کیا کہا، ان کے کہنے کے جواب میں سنجے راؤت نے کیا کہا، اور پھر شیو سینا کا پورے معاملہ پر کیا رد عمل رہا، اور اس رد عمل پر اداکارہ کا کیا رد عمل رہا، ریا نےکیا جھوٹ بولا، اور ریا کی جیل میں رات کیسی گزری ... ایسی خبروں نے شمالی ہندوستان کے لوگوں کو الجھائے رکھا ہوا ہے۔ اس بیچ میں ان خبروں کی وجہ سے ایک بڑی تعداد کو یہ معلوم نہیں کہ ہندوستان میں کورونا کے ایک دن میں نئے معاملوں کی تعداد ایک لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے۔ یہ بھی نہیں معلوم کہ ملک کی معیشت کے تعلق سے آنے والے اعداد و شمار بہت خراب ہیں۔ یہ بھی نہیں معلوم کہ بے روزگاری کی شرح میں بہت تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔

میڈیا کے اس غیر ضروری شور میں شمالی ہندوستان کے لوگوں کو یہ ضرور معلوم ہو گیا ہے کہ کنگنا نے ممبئی کا موازنہ پاکستان کے قبضہ والے کشمیر سے کر دیا، انہوں نے اپنے دفتر کو رام مندر سے تعبیر کر دیا، اور بمبئی کی میونسپل کارپوریشن کو بابر بتا دیا، اور شیو سینا کو سونیا سینا بنا دیا۔ ریا اور منشیات معاملہ میں ملوث افراد کے ناموں کےبارے میں سب کو پتہ لگ گیا۔ یہ لوگ ممبئی میں کہا رہتے ہیں اور ان کے دفتر کہاں ہیں اس کا سب کو علم ہو گیا۔

اس سب کے بیچ فلم اداکارہ کنگنا رناوت نے ممبئی پہنچ کر جو ویڈیو جاری کیا اور اس میں مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کو جس طرح خطاب کیا وہ انتہائی نازیبا تھا۔ انہوں نے شاید غصہ میں اور قومی سیاست کے پیش نظر ایسا بیان دیا ہو لیکن شاید ان کو نہیں معلوم کہ ایسے بیانات کا اثر اگلی نسل پر بہت خراب پڑتا ہے۔ نئی نسل خراب زبان کو اس لئے اپنی گفتگو کا حصہ بنا لیتی ہے کیونکہ ایک فلمی اداکارہ نے استعمال کیا ہے اور دھیرے دھیرے یہ عام چلن میں آ جاتا ہے۔

کنگنا کتنی صحیح ہیں اور ریا کتنی غلط ہیں، یہ تو قانون طے کر ہی دے گا، لیکن میڈیا کے شور میں بہت سے خراب پہلو زندگی کا حصہ بنتے جا رہےہیں اور اچھے پہلو دفن ہو رہےہیں جس کا اثر کئی نسلوں تک پریشان کرے گا۔شیو سینا چاہے اس طرح کی زبان پر اپنا راج سمجھتی ہو یا کنگنا سرخیوں میں رہنے کے لئے یہ زبان اور مثالیں استعمال کر رہی ہو، دونوں ہی نہ صرف غلط ہیں بلکہ ملک اور سماج کے لئے بہت نقصاندہ ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔